Al-Risala · May 1983 · page 18

دینے والے بنو

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۱۸

دینے والے بنو

باٹا شو کمپنی باٹا خاندان کے نام پر ہے۔ یہ خاندان ابتداءً چیکو سلوکیا میں رہتا تھا۔ ۱۶۲۰ء میں انہوں نے جوتا بنانے کا کام شروع کیا۔ ٹامس باٹا سینئر (موجودہ باٹا کے والد) نے ۱۹۲۵ء میں پہلی بار جوتے کا کارخانہ بنایا۔

ٹامس باٹا سینئر اپنے ذاتی ہوائی جہاز میں اڑ رہے تھے کہ ان کا جہاز گہرے کہر میں پھنس کر گر گیا۔ اسی وقت وہ جل کر مرگئے۔ اس کے بعد سے ٹامس باٹا جونیئر باٹا لمیٹڈ کے پریزیڈنٹ ہیں۔ ان کی عمر اس وقت ۶۸ سال ہے۔

باٹا کمپنی کا کاروبار اس وقت ۱۱۴ ملکوں میں پھیلا ہوا ہے۔ پچھلے سال اس کمپنی نے ۳۱۵ ملین جوڑے جوتے ساری دنیا میں فروخت کئے۔ اس کمپنی کا سب سے بڑا کاروبار کناڈا میں ہے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر ہندوستان میں ہے۔ باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جوتا ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد مجموعی طور پر تقریباً ۹۰ ہزار ہے۔ بالواسطہ کارکنوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

مسٹر ٹامس باٹا جونیئر ۱۹۸۳ء میں چالیسویں بار ہندوستان آئے۔ اخباری نمائندے نے ایک ملاقات میں ان سے سوال کیا: آپ کی کامیابی کا واحد سب سے بڑا عامل کیا ہے جس نے آپ کو موجودہ کامیابی تک پہنچایا۔ مسٹر باٹا نے جواب دیا کہ ہم ہر قسم کے جوتے بناتے ہیں۔ سستے بھی اور اور انتہائی قیمتی بھی۔ مگر ہم ہر خریدار کی ضرورت مکمل طور پر پوری کرتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم اپنے خریداروں کا اتنا زیادہ لحاظ کرتے ہیں جتنا کوئی بھی نہیں کرتا۔

We realy look after our customers as nobody else

باٹا کی جوتا کمپنی کی عظیم کامیابی یہ سبق دے رہی ہے کہ اگر تم اپنے لئے لینا چاہتے ہو تو دوسروں کو دینے کی کوشش کرو۔ کیوں کہ دوسروں کو دے کر ہی اس دنیا میں تم اپنے لئے پا سکتے ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page