یکساں برتاؤ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۲۴
انسانی زندگی کے لئے خدا کا پسندیدہ اصول یہ ہے کہ آدمی کا جو برتاؤ لینے میں ہو۔ وہی اس کا برتاؤ دینے میں ہو۔ جو آدمی اس کے خلاف عمل کرے وہ خدا کے نقشے کے خلاف چل رہا ہے۔ اور خدا کے نقشے کے خلاف چلنے والے کے لئے خدا کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔ تحریکیں ناکام کیوں موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے جو تحریکیں اٹھائیں۔ وہ سب کی سب اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ اس کا سبب مذکورہ آیت کی روشنی میں معلوم کیا جاسکتا ہے۔ ان تحریکوں کے لیڈر دوسروں سے اپنے خلاف جس ظلم کی شکایت کر رہے تھے وہ خود دوسروں کے خلاف وہی ظلم کر رہے تھے۔ قرآن کے مطابق ایسے لوگوں کے لئے اس دنیا میں خدا کا غضب ہے نہ کہ خدا کی نصرت ۔
الرسالہ مارچ ۱۹۸۳ صفحہ ۴۴ پر ایک تنقیدی مضمون شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں اگر چہ کسی کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ تاہم مسلمانوں کے کچھ لیڈر جو اپنے اعلان کے مطابق ، قوم کے خلاف ظالموں کے ظلم کو ختم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں ؛ انہوں نے محسوس کیا کہ اس کی زدان کےاوپر پڑ رہی ہے ان کے آدمی ہمارے دفتر میں آئے ۔ وہ بے مشتعل تھے۔ انہوں نے ہم کو برا بھلا کہا اور دھمکیاں دیں۔ ہم تمہارے اوپر مقدمات چلائیں گے ہم تم کو نکال باہر کریں گے۔ ہم تمہارا خاتمہ کر دیں گے ، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ میرے ساتھ آپ جو کچھ کریں گے وہ تو بعد کی بات ہے۔ آپ دیکھئے کہ اپنے اس طرز عمل سے آپ خود اپنے کو کس خانہ میں ڈال رہے ہیں۔ آپ ثابت کر رہے ہیں کہ آپ کا معیار اپنے لئے کچھ ہے اور دوسروں کے لئے کچھ۔
آپ کے بیان کے مطابق آپ کو ہمارے سے ایک مضمون سے شکایت پیدا ہو گئی حالانکہ اس میں آپ کا نام شامل نہ تھا۔ ایسے صرف ایک مضمون کی بنا پر آپ ہم سے اتنا بگڑے ہوئے ہیں کہ ہم کو مٹا ڈالنا چاہتے ہیں۔ پھر جن لوگوں کو آپ ظالم کہتے ہیں ان کے پاس تو آپ کے خلاف اس سے بہت زیادہ بڑی بڑی شکایتیں موجود ہیں۔ یہ لوگ جو ظلم کر رہے ہیں وہ بھی یوں ہی بلا سبب نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ مختلف قسم کی شکایتوں اور ناراضگیوں کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔ پھر آپ کے لئے معمولی شکایت کی بنا پر کسی کو برباد کرنے کا منصوبہ بنانا اگر جائز ہے تو وہی دوسرے لوگوں کے لئے ناجائز کیوں ہو۔ یہ تضاد موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈروں میں موجود ہے اور یہی تضاد ان کی تمام تحریکوں کو بے نتیجہ بنائے ہوئے ہے۔