Al-Risala · May 1983 · page 25

مارکس کا تضاد

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۲۵

مارکس کا تضاد

انیسویں صدی میں سائنس کی ترقی نے انسانی ذہن پر زبردست اثر ڈالا۔ سائنس دانوں نے معلوم کیا کہ طبیعی دنیا کے کچھ اٹل قوانین ہیں اور ان کو معلوم کرکے نہایت کامیابی کے ساتھ ان کو تمدنی ترقی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سائنس اپنے شاندار نتائج کی بنا پر انسانی ذہن پر غالب آگئی۔ چنانچہ ہر میدان میں ایسے لوگ پیدا ہوگئے جو اس کوشش میں مصروف تھے کہ چھپے ہوئے اٹل قوانین کا پتہ لگائیں اور ہر چیز کو عین سائنس ثابت کردیں۔ کارل مارکس کی سائنٹفک سوشلزم بھی اسی ذہن کی پیداوار تھی۔ اس زمانے میں فرانس اور جرمنی اور برطانیہ میں ایسے مفکرین ظہور میں آچکے تھے جو اپنے زمانہ کے معاشرتی مسائل پر سائنسی اصول کو چسپاں کر رہے تھے۔ ان کو یہ شوق تھا کہ وہ ایسے سوشل قوانین کا پتہ چلائیں جو طبیعی قوانین کی طرح اٹل ہوں اور افراد کی مرضی اور خواہش کے محتاج نہ ہوں۔ اس طرح انھیں یقین بھی حاصل ہوا تھا تا کہ مزدور طبقہ کے حقوق کو آئندہ رد نہ کیا جاسکے گا۔ اس میں سرمایہ دار طبقہ کے مقابلہ میں مزدور طبقہ کی جیت یقینی نظر آتی تھی۔ کارل مارکس نے اس فکر کو زیادہ منظم طور پر اور زیادہ قوت کے ساتھ پیش کیا۔ مگر بے جان مادی دنیا کو باشعور انسانوں پر چسپاں کرنا سراسر ایک احمقانہ حرکت تھی یہی وجہ ہے کہ مارکس کے اولین ساتھیوں کو اپنے زمانہ ہی میں یہ ضرورت محسوس ہونے لگی کہ وہ مارکس کے خیالات کو معتدل بنانے کے لئے اس کی تعبیر نو کریں۔ مثلاً اینجلس کو یہ کہنا پڑا کہ " ہم کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ مارکس کن حالات میں لڑ رہے تھے اور یہ کہ ان کی جنگ ایسے لوگوں سے تھی جو معاشی اسباب کو کوئی مقام دینے کیلئے ہرگز تیار نہ تھے۔ مارکس کے نزدیک مادہ اور انسان میں صرف اتنا فرق ہے کہ اول الذکر (Matter) ہے اور انسان (Thinking Matter)

آج سوشلسٹ نظام میں بھی طبقات بدستور باقی ہیں ۔ البتہ ان کے نام بدل گئے ہیں ۔ "مالک" کی جگہ اب " پارٹی " نے لے لی ہے ، گویا تھنکنگ میٹر صرف میٹر کے مقام پر نہ رہ سکا۔ بلکہ دوبارہ وہ تھنکنگ میٹر بن گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page