Al-Risala · May 1983 · page 28

مشورہ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۲۸

مشورہ

عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم المستشار مؤتمن عن ابی ھریرۃ قال ما رأیت احداً اکثر مشورۃ لاصحابہ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ترمذی ، فضائل الجہاد )

قال جعفر الصادق رضی اللہ عنہ بسفیان الثوری شاور في امرك الذين يخشون اللہ تعالیٰ - تعالیٰ(تعلیم المتعلم للشيخ الزنوجی) قال علی کرم اللہ وجہہ ما ھلك امرؤ عن مشورۃ - (تعليم المتعلم)

عن ابن عباس من اراد امراً فشاور فيه امرأ مسلما وفقه اللہ تعالیٰ لأھدی شد امرہ ما تشاور قوم قط الَّا ھدوالا رشدا مرھم (مدارك التنزيل) من اشار علی اخیه بشیئ يعلم الرشد فی غیرہ فقد خان - (تفسیر ابن جریر)

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ امانت دار ہوتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی کو اتنا زیادہ مشورہ کرنے والا نہیں دیکھا جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے مشورہ کرتے تھے ۔

امام جعفر صادق نے سفیان ثوری سے کہا: اپنے معاملات میں ان لوگوں سے مشورہ کرو جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔

حضرت علی کا قول ہے کہ مشورہ سے کوئی انسان کبھی ہلاک نہیں ہوتا ۔

عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ جو شخص کوئی کام کرنا چاہے پھر کسی مرد مسلم سے مشورہ کرے تو اللہ تعالیٰ کام کے بہتر پہلو کی طرف اس کی رہنمائی کر دیتا ہے جو لوگ بھی مشورہ کی پابندی کرتے ہیں وہ ہمیشہ اپنے معاملہ کے زیادہ درست پہلو کو پا لیتے ہیں۔ جس نے اپنے بھائی کو جان بوجھ کر غلط مشورہ دیا اس نے اس کے ساتھ خیانت کی۔

آدمیور میں کوئی زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے اور کوئی کم سمجھ والا ۔ کسی کے سامنے ایک پہلو ہوتا ہے ۔ اور کسی کے سامنے دوسرا پہلو ۔ کوئی متاثر رائے قائم کرتا ہے اور کوئی غیر متاثر رائے ۔ ایسی حالت میں آدمی کے لئے بہترین تدبیر یہ ہے کہ دوسروں سے مشورہ کر لیا جائے تاکہ مختلف رایوں کے سامنے آنے کے بعد صحیح فیصلہ کیا جا سکے ۔ مشورہ گویا کہ دوسروں کی صلاحیتوں کے ذریعہ اپنی کمیوں کی تلافی ہے ۔ من تعمیم بیام سرگردی روز روپوش کرناسی

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page