Al-Risala · May 1983 · page 86

مسلمان وہ ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۸۶

مسلمان وہ ہے

قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: المسلم من سلم رسول اللہ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی المسلمون من لسانه ویدہ زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں آدمی جب حقیقی طور پر خدا کو پاتا ہے تو اس کی قدرت اور جلال کے آگے اس کی ہستی بالکل دب جاتی ہے۔ وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اپنے وجود کو خدا کے آگے ڈال دے۔ وہ اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے حوالے کردے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد در اصل ایسے ہی انسان کے طرز عمل کو بیان کرتا ہے ۔ جو شخص اس طرح مسلم بنتا ہے وہ ایسا انسان ہوتا ہے جو خدا کو ہر آن اپنے آپ پر طاری کئے ہوئے ہو۔ اس کا پورا رویہ اس احساس کے تحت متعین ہوتا ہے کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ اگر وہ خدا کی مرضی کے خلاف چلے تو وہ خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔

یہ احساس مسلمان کی زبان سے یہ صلاحیت ختم کردیتا ہے کہ وہ کسی کےخلاف استعمال ہو۔ یہ احساس مسلمان کے ہاتھ سے یہ طاقت چھین لیتا ہے کہ وہ کسی کے خلاف دست درازی کرے۔ اس کی زبان کھلتی ہے تو صحیح بات کہنے کے کھلتی ہے ۔ اس کا ہاتھ اٹھتا ہے تو انصاف کو قائم کرنے کے لئے اٹھتا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو حق کی جانب کھڑا کرتا ہے نہ کہ ناحق کی جانب ۔ موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں آدمی کو آزمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔ آزمائش ہمیشہ اس وقت ہوتی ہے جب کہ آدمی دو چیزوں کے درمیان ہو۔ سورج چاند حالت امتحان میں نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ ایک ہی متعین انداز میں سفر کرسکتے ہیں۔ اس کے برعکس انسان حالت امتحان میں ہے۔ کیونکہ وہ اختیار رکھتا ہے کہ چاہے تو ایک رخ پر حرکت کرے اور چاہے تو دوسرے رخ پر۔ اس حقیقت کی روشنی میں دیکھئے تو مذکورہ حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان وہ ہے جس کو موقع ہو کہ وہ اپنے بھائی کے خلاف اپنی زبان کھولے مگر اس کے باوجود وہ خدا کی خاطر اپنی زبان کو بند کرلے مسلمان وہ ہے جس کو یہ موقع ہو کہ وہ اپنے بھائی کے خلاف ہاتھ اٹھائے مگر خدا کا خوف اس کے لئے اوپر اتنا غالب ہو کہ اس کا ہاتھ اس کے بھائی پر اٹھنے سے رک جائے۔

موجودہ دنیا میں آدمی ہر آن انصاف اور بے انصافی کے درمیان ہے۔ مسلمان وہ ہے جس نے بے انصافی کو چھوڑ کر انصاف کا راستہ اختیار کیا ، اگر چہ بے انصافی کا راستہ بھی اس کے لئے پوری طرح کھلا ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page