Al-Risala · May 1983 · page 30

دینداری

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۳۰

دینداری

لکم دینکم ولی دین محروف محبں میں لات مذہب نہ تھے وہ زور شور کی حد تک مذہب بنے ہوئے تھے وہ اپنے کو دینِ ابراہیمی کا وارث اور حامل سمجھے تھے۔ ان کی کمی تھی کہ دین کی حقیقی روح ان کی اندر سے غائب ہو گئی تھی یہ چنانچہ قرآن میں ان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: حمید تجھ اور ہم سے حقیقی ولی وہ لوگ ہیں جو تقویٰ والے ہیں۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اور ان کی نماز بیت اللہ کے پاس کیا ہوتی ہے؟ بس سیٹی میں پیٹنا۔ اور تالیاں بجانا (الانفال ۳۵۔

یہی بات بائبل میں یہود کو خطاب کرتے ہوئے ان لفظوں میں کہی گئی ہے: تو اپنے سرود کا شور میرے حضور سے دور کر، کیونکہ میں تیرے رباب کی آواز نہ سنوں گا۔ لیکن عدالت کو پانی کی مانند اور صداقت کو بڑی نہر کی مانند جاری رکھ۔ (عاموس ۵: ۲۴-۲۳)

جب قوموں میں جب بگاڑ آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ ان کے درمیان دین کا نام و نشان مٹ جائے ایسا نہ پہلے ہوا اور نہ آئندہ کسی کے یہاں ہوگا۔ جو بات جھوٹی ہوتی ہے وہ یہ کہ دین کی حقیقت میں غائب ہو جائے۔ البتہ اس کی ظاہری شکلوں کی دھوم خوب بڑھ جاتی ہے۔

دین کی جب ایسا ہوتا ہے تو ”رباب“ پر خدا کی حد کا شور بہت بڑھ جاتا ہے۔ مگر دل کے تاروں پر خدا کا تغیر چہرہ ثابت نہ ہو جاتا ہے۔ عوامی مجلسوں میں دینی باتوں کی دھوم خوب ہونے لگتی ہے مگر تنہائیوں میں خدا کے خوف سے کانپنے والے ختم ہوجاتے ہیں۔ دوسروں کو مجرم ثابت کرنے کے لئے ربابلی میں تیرانی لے چلے لکھی ہیں۔ مگر اپنی خطاؤں کا اقرار کرنے کے تڑپ لوگوں میں باقی نہیں رہتی۔ دوسروں کی کے لئے افسانی کا اعلان کرنے والے بہت پیدا ہو جاتے ہیں۔ مگر اپنی تنے اٹھائی کی اصلاح کرنے والے کہیں نظر نہیں آتے۔ یومِ ملت اور یومِ اسلام منانے والوں کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے مگر یومِ خویش منانے والے معدوم ہو جاتے ہیں۔ تو قوم کو بچانے کے لئے ہر شخص بے تاب نظر آتا ہے مگر فرد کو بچانے کے لئے کوئی نہیں اٹھتا۔ جو اپنی ذات میں عدل و انصاف کا آغاز بن جاتے، جس کے قول وعمل سے سچائی کی نہریں جاری ہو جائیں۔ وہی حقیقت میں خدا پرست ہے۔ مگر آج وہ خدا پرست ہے جس کا آج کی دنیا میں کہیں وجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page