ایک موت
الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۳۴
ایک موت
۲۳ فروری ۱۹۸۳ کی صبح الرسالہ کے لئے بڑی درد ناک خبر لے کر آئی۔ اس دن الرسالہ کے کاتب حافظ امجد علی شاہجہانپوری کا انتقال ہو گیا۔ وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً ستر سال تھی۔ حافظ امجد علی صاحب نے الرسالہ کی کتابت کا کام اتنی دلچسپی اور لگن کے ساتھ کیا کہ "الرسالہ" اور "امجد علی صاحب" دونوں ایک دوسرے کے ہم معنی بن گئے۔ وہ دہلی کے اعلیٰ درجہ کے کاتب تھے۔ الرسالہ کے صفحات نے ان کی خوش نویسی کے جو نمونے محفوظ کئے ہیں وہ ابھی نا معلوم مدت تک باقی رہیں گے۔ مگر لکھنے والے کافن لکھنے والے کے ساتھ ہمیشہ کے لئے چلاگیا۔
اگر یہ کہا جائے کہ الرسالہ کی ہر اشاعت سب سے پہلے امجد علی صاحب کی نظر سے گزرتی تھی تو یہ بات بالکل صحیح ہوگی۔ کیونکہ وہ الرسالہ کو صرف "لکھتے"نہیں تھے بلکہ وہ اس کو "پڑھتے"بھی تھے۔ الرسالہ کے مضامین جب انہیں کتابت کے لئے دیئے جاتے تو پہلے وہ ان کا مطالعہ کرتے۔ اس کے بعد ان کو لکھنا شروع کرتے۔ وہ الرسالہ کے صرف کاتب نہیں تھے۔ بلکہ وہ اس کے سب سے پہلے قاری بھی تھے۔
موت کی خبر ملنے کے بعد ۲۳ فروری کی دوپہر کو جب میں ان کے گھر پہنچا تو ان کا مردہ جسم ایک چار پائی پر لٹایا ہوا تھا۔ میں دیر تک تاثرات کے طوفان میں انہیں دیکھتا رہا۔ وہی معصوم چہرہ تھا مگر اب وہ خاموش ہو چکا تھا۔ بظاہر وہی آنکھیں تھیں مگر اب وہ ہمیشہ کے لئے بند ہو چکی تھیں۔ ہاتھ وہی تھا مگر اب وہ قلم پکڑنے کی طاقت سے محروم تھا۔
۲۳ فروری کو نماز ظہر کے بعد جنازہ اٹھا۔ لوگ حافظ امجد علی کا جسم کاندھوں پر اٹھائے قبرستان کی طرف جا رہے تھے۔ اور میرے ذہن میں ایک پوری تصویر جاگ رہی تھی۔ جس میں انسان اپنے آغاز سے انجام کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا تھا۔ انسان کی کہانی کیسے عجیب طور پر اس دنیا میں شروع ہوتی ہے۔ اور کیسے عجیب طور پر ختم ہو جاتی ہے۔
۲۳ فروری سے پہلے امجد علی صاحب سے میرا ہر روز کا ساتھ تھا۔ ۲۳ فروری کو وہ اچانک دوسری دنیا میں چلے گئے۔ جب مجھے اس کا خیال آتا ہے تو میں یہ سوچنے لگتا ہوں کہ ہماری آج کی دنیا اور ہماری کل کی دنیا میں کتنا کم فاصلہ ہے۔