منافق کے ساتھ برتاؤ
الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۳۳
آپ نے ان سے مسلمانوں جیسا معاملہ فرمایا اور ان کے ظاہر احوال پر انہیں باقی رکھا۔ مسلم ، احمد، ابن ماجہ اور ابو داود نے اسامہ بن زید سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سر یہ میں بھیجا۔ ہم صبح کو جہینہ کے علاقہ میں پہنچے۔ وہاں میں نے ایک آدمی کو پکڑا۔ اس نے فورا لا الہ پڑھا۔ پھر بھی میں نے اس کو نیزہ مار دیا۔ اس کے بعد میرے دل میں شبہ پیدا ہواا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا؛ کیا اس نے لا الہ الا اللہ کہا پھر بھی تم نے اس کو قتل کر دیا (قال لا الہ الا اللہ وقتلته) میں نے کہا اے رسول اللہ اس نے ہتھیار کے ڈر سے کہا تھا۔ آپ نے فرمایا: پھر کیوں نہ تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تاکہ تم کو معلوم ہو کہ اس نے واقعہ کہا ہے یا نہیں کہا ہے (افلا شققت على قلبه حتی تعلم اقالها ام لا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جملہ کو برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں آج مسلمان ہوا ہوتا۔
حضرت عمر بن الخطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے عبد اللہ بن ابی (رئیس المنافقین) کے قتل کی اجازت دیجئے۔ مگر آپ نے ان کو اجازت نہیں دی۔ اسی طرح ابن ابی کے لڑکے عبد اللہ نے ابن ابی کو قتل کرنے کی اجازت مانگی جب کہ غزوہ مریسیع میں اس کا نفاق ظاہر ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے انکار فرمایا اور کہا: بلکہ ہم اس سے نرمی کا معاملہ کریں گے اور اس سے اچھا تعلق رکھیں گے (بل نتفق به ونحسن صحبته)
اس سے معلوم ہو کہ کسی کو منافق قرار دیکر اس کو قتل کرنا سرا سر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ مخلص اور منافق کا تعلق اللہ سے ہے۔ وہی دونوں کو الگ کر کے ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم لوگوں سے ظاہری حالات کے مطابق معاملہ کریں۔ مدینہ کے منافقین یہود سے ملے ہوئے تھےوہ اسلام کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ وہ بظاہر مسلمان مگر اندر سے نامسلمان تھے ۔ اس کے باوجود ان کو قتل نہیں کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں اقتدار حاصل تھا مگر آپ ان کی حقیقت جانتے ہوئے ان کو برداشت کرتے رہے یہاں تک کہ منافقین اپنی طبعی موت مر کر اللہ کے یہاں حساب دینے کے لئے پہنچ گئے۔