Al-Risala · May 1983 · page 37

The Call for Islam in South and Southeast Asia

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۳۷

ایک سفر

۸ دسمبر ۱۹۸۲ کو ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور اٹھا یا تو دوسری طرف سے آواز آئی۔ ”ہم وزارت خارجہ سے بول رہے ہیں “ ”یہ حکومت ہند کی وزارت خارجہ کے ڈپٹی سیکرٹری (BSM) کا ٹیلی فون تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مالدیپ کی وزارت تعلیم کے تحت مالے (Male) میں ایک سیمنار ہورہا ہے جس میں انہوں نے مجھے شرکت کی دعوت دی ہے۔ سیمنار کا عنوان ہے: اسلامی دعوت جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں۔

The Call for Islam in South and Southeast Asia

انہوں نے کہا کہ اگر آپ شرکت کی منظوری دے دیں تو ہم حکومت مالدیپ کو ٹیکس کے ذریعہ پیغام بھیج دیں تاکہ وہ آپ کے سفر کے انتظامات کر سکیں۔ میں نے شرکت منظور کرلی۔ تا ہم جلد ہی بعد مجھے لیبیا کا سفر پیش آگیا اور سیٹ کا رزرویشن وقت پر نہ ہوسکا۔ میں لیبیا کے سفر سے واپس آیا تو مالدیپ کے سیمنار کی تاریخ میں صرف تین دن باقی تھے۔ ۹ جنوری کو روانہ ہو جانا میرے لئے بالکل ضروری تھا۔ معلوم ہوا کہ مالدیپ میں یہ سیاحوں کی آمد کا موسم ہے، اس لئے مدراس سے مالے (دارالسلطنت مالدیپ) جانے والے جہاز کی تمام سیٹیں بک ہو چکی ہیں۔ میرا نام ویٹنگ لسٹ میں نمبر ۴۶ پر ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ اب مالدیپ کا سفر ممکن نہ ہو سکے گا۔

میں نے اپنے آدمی کو وزارت خارجہ (نئی دہلی) کے دفتر میں بھیجا۔ ۸ جنوری کی شام کو ہمارا آدمی وزارت خارجہ کے دفتر میں اس وقت پہنچا جب وہاں دفتر کے کام کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ اور ڈپٹی سیکرٹری اپنی کرسی سے اٹھ چکے تھے۔ انہوں نے کھڑے کھڑے کیس کو سنا اور اس کے بعد دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گئے ۔ اپنے اسٹینو کو بلایا اور اسی وقت ایک خط تیار کر کے ہمارے آدمی کے حوالے کیا۔ اور کہا کہ اس کو لے کر انڈین ایئر لائنز کے منیجر سے ملیں۔ چنانچہ وہ خط انڈین ایئر لائنز کے منیجر کو دکھایا گیا۔ اس نے فوری طور پر مدراس کے دفتر کو ٹیکس کیا اور کہا کہ ”مسٹر خان “ کو اعلیٰ ترین ترجیح کی بنیاد پر مالے جانے والے جہاز میں جگہ دی جائے۔

اس کے بعد ہمارا آدمی واپس آگیا۔ چند گھنٹے کے بعد فون کی گھنٹی بجی۔ یہ انڈین ایئر لائنز (نئی دہلی) کا ٹیلی فون تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کی سیٹ مدراس سے کنفرم ہو گئی ہے۔ اس میں میں صرف

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page