The Call for Islam in South and Southeast Asia
الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۴۳
نے مالدیپ پر حملہ کیا ۔ ۱۵۵۸ء میں مالدیپ پر پرتگالیوں کا قبضہ ہوگیا۔ اس کے بعد محمد خطیب کی رہنمائی میں آزادی کی جدوجہد شروع ہوئی ۔ جلد ہی پرتگالیوں کو واپس جانا پڑا۔ اور پندرہ سال بعد ۱۵۸۵ء میں سلطان کا راج دوبارہ قائم ہوگیا۔
۱۸۸۷ء میں مالدیپ برطانی راج کے ماتحت آگیا ۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد پرامن طور پر مالدیپ کی آزادی کی کوشش شروع ہوئی۔ حکومت برطانیہ اور حکومت مالدیپ کے درمیان تقریباً دس سال کی گفتگو کے بعد جو لائی ۱۹۶۵ء میں ایک معاہدہ پر دونوں حکومتوں نے دستخط کئے۔ اس کے مطابق مالدیپ کو مکمل آزادی حاصل ہوگئی۔ اسی سال سے مالدیپ اقوام متحدہ کا ممبر ہے۔ مالدیپ میں صرف ہائر سیکنڈری تک کی تعلیم کا انتظام ہے۔ یہاں ابھی تک کوئی کالج نہیں۔ تعلیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے اسکولوں کے ماسٹر اکثر بیرونی لوگ ہیں۔ یہاں کی تجارت زیادہ تر مچھلی اور سیاحت ہے۔ تاہم کوریا اور جاپان کی کشتیاں یہاں کے سمندروں میں آتی رہتی ہیں۔ اور مچھلیاں پکڑ کر لے جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے مچھلی کی آمدنی پوری طرح مالدیپ کے حصہ میں نہیں آتی۔ سیاح کافی آتے ہیں وہ بلاشبہ اپنے ساتھ دولت لاتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ وہ بہت سے مسائل بھی لار ہے ہیں۔ جن کا فی الحال کوئی حل مالدیپ کے پاس نہیں۔
۱۳ جنوری کا دن یہاں کے خاص خاص مقامات کے لئے مقرر تھا۔ صبح کو ہم لوگ جزیرہ مالے سے بند یڈوز (Bandos Resort) کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ سفر برطانیہ کی بنی ہوئی ایک کشتی پر ہوا۔ جس پر لکھا ہوا تھا۔
دو گھنٹہ کا یہ سفر بڑا عجیب و غریب تھا۔ راستہ میں ہم دو اور جزیروں پر اترتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچے۔ اس سفر کے دوران بار بار مختلف جزیرے سامنے آتے رہے۔ دو ہزار کی تعداد میں پھیلے ہوئے جزیرے ناریل کے درختوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے قدرت نے سمندر میں جگہ جگہ ہرے بھرے گلدستے پھیلا رکھے ہوں ۔
یہ سفر بڑا عجیب تھا۔ ہمارے چاروں طرف بحر ہند کا پانی موجیں مار رہا تھا۔ اس میں ہمارا اسٹیمر موجوں کو چیرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ چاروں طرف نیلا آسمان، اس کے اوپر بادل، سمندر میں جگہ جگہ ناریل کے درختوں سے ڈھکے ہوئے جزیرے ، ایسا محسوس ہوا جیسے ہم حسن اور معنویت کی ایک ابدی کائنات میں رواں دواں ہیں۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا :
” کیسی عجیب بات ہوگی کہ یہاں ایسی حیرت ناک دنیا ہو اور اس کا کوئی خدا نہ ہو۔ “ Presented by Britain