The Call for Islam in South and Southeast Asia
الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۴۲
مقالوں کے عنوانات حسب ذیل تھے :
۱۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام کی اشاعت ۔
۲۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں مخالف اسلام سرگرمیاں ۔ ۳۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں مسلم اقلیتوں کا مسئلہ ۔ ۴۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں آئندہ اشاعت اسلام کی کیا تدابیر اختیار کی جائیں۔ سیمنار میں مذکورہ علاقہ میں واقع تمام ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ جن ممالک کے نمائندے شریک ہوئے ان کے نام یہ ہیں :
مالدیپ، ہندوستان ، سری لنکا ، بنگلہ دیش ، پاکستان ، ملائشیا ، تھائی لینڈ ، انڈونیشیا ، فلپائن، برما، سنگاپور، ماریشس ۔
مالدیپ مجمع الجزائر ہے۔ اور بحرہند کے وسط میں واقع ہے۔ تقریباً ساڑھے سات سو کلومیٹر لمبائی اور تقریباً سواسو کلومیٹر کی چوڑائی میں دو ہزار جزیرے پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ جزیرے اتنے چھوٹے ہیں کہ انکا مجموعی زمینی رقبہ صرف تین سو مربع کلومیٹر ہوتا ہے۔ ان جزائر میں تقریباً دوسو جزیرے آباد ہیں۔ مالدیپ کی آبادی صرف ڈیڑھ لاکھ ہے۔ تمام کے تمام باشندے مسلمان ہیں۔ یہاں کے قانون کے مطابق کسی غیر مسلم کو مالدیپ کی شہریت نہیں دی جاسکتی۔ پہلے مالدیپ کے باشندے بدھسٹ تھے۔ بارہویں صدی عیسوی میں یہاں کے باشندے ایک ساتھ مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے عرب تاجروں کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ۵۳۱ء میں مراکش سے ایک عرب تاجر یہاں پہنچا جس کا نام ابو البرکات یوسف علی بربری تھا۔ اس نے تبلیغ کی۔ اس کی تبلیغ سے مالدیپ کے تمام باشندے مسلمان ہوگئے۔
مالدیپ کی قدیم تاریخ معلوم نہیں۔ یہاں کی ابتدائی تاریخ کا ذریعہ وہ عرب مورخین یا سیاح ہیں جو مالدیپ آئے۔ المسعودی ، ۹۲، میں مالدیپ پہنچا۔ البیرونی نے ۱۰۳۰ میں مالدیپ کی سیاحت کی۔ الادریسی بارہویں صدی کے آغاز میں مالدیپ آیا۔ ابن بطوطہ کی مالدیپ میں آمد ۱۳۴۷ء میں ہوئی۔ فرانسیسی ملاح فرانکوئی لیول (François Pyrard de Lavel) ۱۶۰۱ میں مالدیپ پہنچا۔ ان لوگوں نے اپنی سیاحتی ڈائری میں مالدیپ کے کچھ احوال لکھے ہیں جس تاج الدین پہلے مالدیپی ہیں جنہوں نے ۱۷۲۶ء میں مالدیپ کے حالات قلم بند کئے ۔
مالدیپ میں ۱۱۴۱ء سے لے کر ۱۵۵۸ء تک سلاطین کی حکومت تھی۔ اس کے بعد پرتگالیوں