Al-Risala · May 1983 · page 45

The Call for Islam in South and Southeast Asia

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۴۵

یہاں ملیشیا کے ایک صاحب ملے، انہوں نے بتایا کہ الاسلامیہ متحدی کا ترجمہ ملائی زبان میں بھی شائع ہو چکا ہے۔

مالدیپ میں اردو جاننے والے بھی ہیں۔ چنانچہ کئی ایسے لوگ ملے جنہوں نے بتایا کہ وہ الرسالہ منگاتے ہیں، اور میری اردو کتابیں پڑھے ہوئے ہیں۔

ہندوستانی سفارت خانہ کے سکریٹری مسٹر نائر میرے کمرہ میں آئے اور معلوم کیا کہ مجھے کوئی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لائق جو بھی خدمت ہو ہم اس کو کرنے کے لئے تیار ہیں۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس وقت مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔

مالدیپ کے نوجوان پوسٹ ماسٹر (مالک عبدالرزاق صاحب) تقریباً دو سال پہلے دہلی آئے تھے اور وہاں میرے دفتر میں مجھ سے ملے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میں خود تو اردو نہیں جانتا مگر میرے دادا اچھی اردو جانتے ہیں۔ اور وہ آپ کی کتابیں بہت شوق سے پڑھتے ہیں۔ میں یہاں آیا تو مجھے ان سے ملنے کی خواہش تھی۔ مگر میں دونوں صاحبان کا نام بھول گیا۔ کچھ لوگوں سے ذکر کیا تو انہوں نے دریافت کر کے معلوم کیا اور مجھ سے ملاقات کا انتظام کیا۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے۔ Mr Abdul Wahab, Dhaharage, Machangoli, Male, Maldives عبدالوہاب صاحب مطالعہ کا بہت شوق رکھتے ہیں۔ اور خاص طور پر دینی کتابیں بہت پڑھتے رہتے ہیں۔ ان کو اولاً میری کتاب (علم جدید کا چیلنج) ملی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے بقیہ کتابیں حاصل کیں۔

مالدیپ میں چوری، قتل ، رشوت ، آپس کے لڑائی جھگڑے وغیرہ بالکل نہیں ہیں۔ حتی کہ مالے کے سواکسی اور جزیرہ پر کوئی پولیس پوسٹ بھی نہیں۔ یہاں کے باشندے عام طور پر بالکل پر امن طریقہ پر رہتے ہیں۔ البتہ سیاحوں کی آمد سے کچھ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً لڑکیوں کی آزادی ، مہنگائی، معیار زندگی میں تبدیلی ، تنخواہوں میں اضافہ وغیرہ۔

مالدیپ کا دارالسلطنت جس جزیرہ پر قائم ہے اس کا نام مالے ہے۔ یہ صرف دو کلومیٹر مربع رقبہ میں ہے۔ وسیع سمندر کے درمیان اس قسم کے چھوٹے چھوٹے جزیروں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر یہاں جوار بھاٹا آئے تو ان جزیروں پر انسانی آبادی کا کوئی وجود نہ رہے۔ مگر قدرت کا یہ عجیب قانون ہے کہ اس قسم کے چھوٹے جزیروں پر جوار بھاٹا نہیں آتا۔ اگر آپ جزیرہ سے ایک

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page