Al-Risala · May 1983 · page 46

The Call for Islam in South and Southeast Asia

الرسالہ، مئی ۱۹۸۳، صفحہ ۴۶

کشتی یا اسٹیمر پر سوار ہو کر نکلیں تو جزیرے کے کنارے موجیں ہلکی ہوں گی۔ مگر آپ جب دور سمندر کے درمیان پہنچیں گے تو پانی کی لہریں کافی تیز دکھائی دیں گی۔

مالدیپ کا ہندوستانی سفارت خانہ ہر مرحلہ میں بے حد معاون رہا۔ جناب سفیر صاحب اور مسٹر نائر (اتاشی) خود میرے یہاں آئے اور کہا کہ آپ کو جو ضرورت ہو اس کے لئے ہم حاضر ہیں۔ مالدیپ کے سیمنار میں مختلف ملکوں کے لوگوں نے شرکت کی۔ ہندوستان سے صرف میں نے نمائندگی کی۔ سیمنار میں تین زبانیں رائج تھیں ۔ انگریزی، عربی ، اور مالدیپی۔ میں نے زیادہ تر انگریزی میں اپنے خیالات ظاہر کئے۔ طریقہ یہ تھا کہ منتظمین سیمنار کی طرف سے اولا کوئی مقالہ پیش کیا جاتا اور اس کے بعد اس پر تبادلہ خیال ہوتا۔

۱۰ جنوری کو جناب موسیٰ فتحی قاسم (چیف جسٹس، مالدیپ ہائی کورٹ) نے مقالہ پیش کیا یہ مقالہ اصلاً عربی زبان میں تھا۔ اس کا عنوان تھا۔

الدعوة الاسلامية وكيف دخل الاسلام جنوب و جنوب شرقي آسيا مقالہ کے بعد مختلف لوگوں نے موضوع سے متعلق اپنے اپنے تاثرات ظاہر کئے۔ میں نے کہا کہ زیر بحث موضوع کے بہت سے پہلو ہیں۔ تاہم میرے نزدیک ایک خاص پہلو یہ ہے کہ اسلامی علاقہ (Victory in Defeat) میں اسلامی دعوت کی تاریخ شکست میں فتح کا راز بتاتی ہے۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ اس علاقہ میں اسلام کے حاملین کی طرف سے کبھی کوئی فوج کشی نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود یہ علاقہ مسلم اکثریت کا علاقہ ہے۔ یہ کیسے ہوا۔ یہ تاجروں اور صوفیوں کی تبلیغ کے ذریعہ۔

۱۶؍ جنوری ۱۹۸۳ کو میں دہلی واپس آگیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1983 All issues

Printed page