Al-Risala · June 1983 · page 2

جدوجہد حیات کا سبق

الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۲

جدوجہد حیات کا سبق

رمضان کے مہینہ کو حدیث میں صبر کا مہینہ (شہر الصبر) کہا گیا ہے ۔ صبر و استقامت بلاشبہ زندگی کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہی تمام فتوحات اور کامیابیوں کا راز ہے۔ حقیقی روزہ صبر کی صفت پیدا کرتا ہے اور صبر ہی وہ چیز ہے جو تمام اعلیٰ کامیابیوں کا دروازہ ہے۔ رمضان کا مہینہ آدمی کے لئے اپنے نفس اور اپنی خواہشات سے لڑنے کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جب کہ مومن شیطانی طاقتوں کو زیر کر کے ان کے اوپر قابو پاتا ہے اور دوبارہ خدا کی بندگی کا عزم لے کر نئے سال میں داخل ہوتا ہے ۔

تاریخ حیرت انگیز طور پر روزہ کی اس خصوصیت کی تصدیق کرتی ہے ۔ چنانچہ روحانی مقابلہ کا یہ مہینہ اسلام کی تاریخ میں فوجی مقابلہ کا مہینہ بھی رہا ہے ۔ اسلام اور غیر اسلام کے کئی بڑے بڑے معرکے اسی مبارک مہینہ میں پیش آئے ہیں۔ مثال کے طور پر ان میں سے چند یہ ہیں :

غزوہ بدر (رمضان ۲ ھ) جس نے پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کو قریش کے اوپر فیصلہ کن فتح دی۔ فتح مکہ (رمضان ۸ ھ) جس نے پورے عرب پر اسلام کو غالب کر دیا ۔

غزوہ تبوک (رمضان ۹ ھ) جس نے رومیوں کے اوپر اہل اسلام کی دھاک قائم کر دی ۔ غزوہ تبوک رجب میں شروع ہو کر رمضان میں ختم ہوا ۔

معرکہ اسپین (رمضان ۹۱ ھ) جب کہ طارق بن زیاد نے اسپین میں کامیاب پیش قدمی کی ۔ معرکہ عین جالوت (رمضان ۶۵۸ ھ) جس نے تاتاریوں کو شکست دے کر مسلم دنیا میں ان کی پیش قدمی کو روک دیا ۔

معرکہ سوئز (رمضان ۱۳۹۳ ھ) جب کہ مصری فوجوں نے اسرائیلی فوجوں کو شکست دے کر نہر سوئز پر دوبارہ قبضہ کر لیا ۔

اس قسم کے تاریخی واقعات بتاتے ہیں کہ روزہ اور جدوجہد حیات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ روزہ کی بھوک پیاس آدمی کو کمزور نہیں کرتی ۔ بلکہ وہ اس کو اس قابل بناتی ہے کہ زندگی کے معرکہ میں زیادہ قوت کے ساتھ حصہ لے سکے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues

Printed page