خبر غلط تھی
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۵
فیصلہ کیا اور بالآخر اسلام قبول کر لیا۔ اس کے نتیجہ میں انہوں نے اپنی قابل رشک ملازمت کھودی۔ مگر ان کا کہنا ہے کہ میں نے خدا کو پا لیا ہے۔ اور اب کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ خبر دوسرے اخبارات میں نقل ہوئی تو اس میں مزید اضافے بھی کر دئے گئے۔ مثلاً یہ کہ آرم اسٹرانگ نے چاند کی آواز کو ٹیپ ریکارڈ کر لیا تھا اور زمین پر آ کر اذان کی آواز کو اس سے ملایا۔ وغیرہ۔
اس سلسلہ میں راقم الحروف نے ایک خط مسٹر آرم اسٹرانگ کو لکھا تھا۔ انہوں نے اس خبر کی تردید کی ہے اور اس کو بے بنیاد بتایا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے ذاتی دستخط سے جو جواب موصول ہوا ہے اس کا عکس علیحدہ صفحہ پر دیا جا رہا ہے۔ آرم اسٹرانگ اپنے جواب میں لکھتے ہیں: آپ کے خط کا شکریہ۔ میرے اسلام قبول کرنے کی خبر میں ، اذان کی آواز کو چاند پر اور اس کے بعد قاہرہ میں سننا ، سب خلاف واقعہ ہیں ۔ میں کبھی مصر نہیں گیا۔ ملایشیا ، انڈونیشیا اور دوسرے مقامات کے کچھ رسالوں اور اخبارات نے یہ خبریں بغیر تصدیق کے ہوئے چھاپی ہیں۔ اس نااہل صحافت نے آپ کو جو بھی زحمت دی ہو اس کے لئے میں معذرت چاہتا ہوں ۔ خلوص کے ساتھ ، آرم اسٹرانگ خبر کے مطابق اس واقعہ میں حکومت امریکہ بھی ملوث تھی۔ کیونکہ خبریں بتایا گیا تھا کہ اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مسٹر آرم اسٹرانگ کی سرکاری ملازمت ختم کر دی گئی ہے۔ اس بنا پر خود حکومت امریکہ نے بھی اس کی تردید کا اہتمام کیا۔ ۱۴ مئی ۱۹۸۳ کو نئی دہلی کے امریکن سینٹر میں ایک خصوصی ٹیلی پریس کانفرنس ہوئی۔ اس میں اخبارات کے نمائندوں کو موقع دیا گیا کہ وہ ٹیلی فون کے ذریعہ براہ راست آرم اسٹرانگ سے بات کریں۔ اس ٹیلی پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے امریکی خلا باز نے اپنے قبولِ اسلام کی تردید کی (ہندوستان ٹائمس ۱۳ مئی ۱۹۸۳) مزید انہوں نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات کبھی ان کے سامنے نہیں آئیں اور نہ انہوں نے قرآن کا مطالعہ کیا ہے:
He had never been exposed to Islamic teachings nor had he read the Quran. کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے آرم اسٹرانگ اور ان جیسے دوسرے بندگان خدا کے سلسلہ میں اپنی تبلیغی ذمہ داریوں کو تو پورا نہیں کیا۔ البتہ فرضی کہانیاں بنا کر خوش ہو رہے ہیں کہ چاند سے لیکر امریکی خلا باز تک سب کو ان کے دین اعظم نے فتح کر رکھا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues