Al-Risala · January 1983 · page 25

تلوار سے زیادہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۵

تذکیر القرآن یونس ۱۰ خدا کے لئے بیٹے بیٹیاں ماننا خدا کو انسان کے اوپر قیاس کرنا ہے۔ انسان کیوں اور محدودتیوں کا شکار ہے ، اس لئے اس کو اولاد کی ضرورت ہے تا کہ ان کے ذریعہ وہ اپنی کیوں اور محدودیتوں کی تلافی کرے مگر خدا کے معاملہ میں یہ قیاس بالکل بے بنیاد ہے۔

مخلوقات کا نظام خود ہی اس قسم کے خالق کی تردید ہے۔ مخلوقات کا عالمی نظام جس خدا کی شہادت دے رہا ہے وہ یقینی طور پر ایک ایسا خدا ہے جو اپنی ذات میں آخری حد تک کامل ہے۔ وہ ہر قسم کے عیبوں اور کمیوں سے پاک ہے۔ خدا اگر اپنی ذات میں کامل نہ ہوتا ، اگر وہ عیبوں اور کمیوں والا خدا ہوتا تو کبھی وہ موجودہ کائنات جیسی کائنات کو نہیں بنا سکتا تھا اور نہ اس کو اس طرح چلا سکتا تھا جس طرح وہ انتہائی معیاری صورت میں چل رہی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر جس خدائے واحد کا تصور پیش کر رہا ہے اس کا وجود تو زمین و آسمان کی تمام نشانیوں سے ثابت ہے۔ مگر مشرکین نے خدا کا جو تصور بنا رکھا ہے، اس کا کوئی ثبوت موجودہ کائنات میں موجود نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ بے ثبوت خدا کو ماننا خود ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ جو خدا سرے سے موجود نہ ہو وہ کیسے کسی کی مدد پر آئے گا اور کیسے کسی کو بامراد کرے گا۔ جو خدا حقیقی طور پر موجود ہے، مشرکین اس کو مانتے نہیں ، اور جس خدا کو مانتے ہیں اس کا کہیں وجود نہیں۔ ایسی حالت میں مشرکین موجودہ کائنات میں کیونکر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان کے لئے جو واحد انجام مقدر ہے وہ صرف یہ کہ بالآخر وہ بے بس اور بے سہارا ہو کر رہ جائیں اور ہمیشہ کے لئے ذلت و ناکامی میں پڑے رہیں۔ موجودہ دنیا میں انکار یا شرک کا رویہ اختیار کرنے سے کسی کا کچھ بگڑتا نہیں۔ اس سے آدمی غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے۔ مگر موجودہ صورت حال صرف امتحان کی مہلت کی بنا پر ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو امتحان کی وجہ سے عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ جیسے ہی امتحان کی مدت ختم ہوگی موجودہ صورت حال بھی ختم ہو جائے گی۔ اس وقت آدمی دیکھے گا کہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں ہے جس کا وہ اپنے آپ کو مالک سمجھ کر سرکش بنا ہوا تھا۔

حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے عقل سے کہا : ”اے عقل ، اس کائنات میں میں نے تجھ سے افضل، تجھ سے حسین اور تجھ سے بہتر مخلوق پیدا نہیں کی۔ ‘‘ انسان کو ایسی عظیم نعمت دینے کا یہ تقاضا ہے کہ اس کی ذمہ داری بھی عظیم ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے نزدیک سچائی کا انکار سب سے بڑا جرم ہے۔ سچائی کو جب دلیل سے ثابت کر دیا جائے تو آدمی کے اوپر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو مانے۔ عقلی طور پر ثابت شدہ ہو جانے کے بعد اگر وہ سچائی کا انکار کرتا ہے تو وہ ناقابل معافی جرم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ خدا نے جب انسان کو ایسی عقل دی جس سے وہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا جان سکے تو اس کے بعد کیا چیز ہوگی جو خدا کے یہاں اس کے لئے عذر بن سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page