تلوار سے زیادہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۲۴
تذکیر القرآن ۱۰ یونس حقیقی علم کی بنیاد پر۔
اس دنیا میں حقیقی علم کی بنیاد پر بولنے والے صرف وہ لوگ ہیں جن کو پیغمبر کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مخصوص لوگ ہیں جن کا ربط عالم بالا سے براہِ راست قائم ہوتا ہے۔ خدا خود انہیں اپنی طرف سے حقیقت کی خبر دیتا ہے۔ اس لئے اس دنیا میں پیغمبر کا علم ہی واحد علم ہے جس پر یقینی طور پر بھروسہ کیا جا سکے۔ پیغمبروں کے دعوے کی صداقت کو جانچنے کے لئے اگرچہ ہمارے پاس کوئی براہ راست ذریعہ نہیں ہے۔ تاہم ایک بالواسطہ ذریعہ یقینی طور پر موجود ہے۔ اور وہ کائنات کی آیات (نشانیاں) ہیں۔ یہ نشانیاں پیغمبروں کے بیان کردہ معنوی حقائق کی عملی تصدیق کر رہی ہیں۔
مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری زمین پر رات کے بعد دن آتا ہے اور دن کے بعد رات آتی ہے۔ یہ گردش ایک انتہائی محکم نظام کی وجہ سے وجود میں آتی ہے جو ریاضیاتی صحت کی حد تک منظم ہے۔ مزید یہ کہ یہ گردش حیرت ناک حد تک ہماری زندگی کے موافق ہے۔ اس کے پیچھے واضح طور پر ایک با مقصد منصوبہ کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ صورت حال یقینی طور پر ایک ایسے قادر مطلق اور رحمان و رحیم کے وجود کا ثبوت ہے جس کی خبر پیغمبر دیتے ہیں۔
جو لوگ اپنے خیال کے مطابق ”شریکوں کی پیروی کر رہے ہیں، وہ شرکا ر خواہ قدیم الہیاتی شرکا ر ہوں یا جدید مادی شترکار، وہ کسی واقعی حقیقت کی پیروی نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ صرف اپنے قیاس و گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔ پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہونے والی حقیقت کی تصدیق ساری کائنات کر رہی ہے مگر ”مشرکین“ جس چیز کے مدعی ہیں اس کی تصدیق کرنے والا کوئی نہیں۔
قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ۨ سُبْحٰنَهُ ۨ هُوَ الْغَنِيُّ ۨ لَهُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۨ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۢ بِهٰذَا ۭ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ قُلْ اِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيْدَ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہے۔ وہ پاک ہے، بے نیاز ہے۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ ہے۔ تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔ کیا تم اللہ پر ایسی بات گھڑتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے۔ کہو، جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔ ان کے لئے بس دنیا میں تھوڑا فائدہ اٹھا لینا ہے ۔ پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے۔ پھر ان کو ہم اس انکار کے بدلے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے ٦٨۔ ۷۰
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues