موت کا مرحلہ
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۱۶
موت کا مرحلہ
موت کا لمحہ تمام قابل قیاس اور ناقابلِ قیاس لمحات سے زیادہ شدید ہے۔ ہر دوسری مصیبت جس کے لئے آدمی پریشان ہوتا ہے۔ اس مصیبت کے مقابلہ میں بیچ ہے جو موت کی صورت میں اس کے سامنے آنے والی ہے۔
موت زندگی کے سخت ترین مرحلہ کی طرف سفر ہے۔ یہ کامل بے اختیاری، کامل بے سروسامانی اور کامل بے مددگاری کے مرحلہ میں داخل ہونا ہے۔ دنیا کی ہر تکلیف کی ایک حد ہوتی ہے، موت ہم کو ایک ایسی دنیا میں داخل کردیتی ہے جس کی تکلیفوں اور مصیبتوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ موجودہ دنیا میں بھی آدمی باعتبارِ حقیقت اسی حال میں ہے۔ انسان اپنی ذات کے اعتبار سے اتنا کمزور ہے کہ وہ معمولی ناخوشگوار ی کو بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ ایک سوئی کا چبھنا، ایک دن کی بھوک پیاس، چند دن کے لئے نیند نہ آنا بھی اس کے پورے وجود کو تڑپا دیتا ہے۔ تاہم موجودہ دنیا میں اس کو اس کی ضرورت کے مطابق تمام چیزیں حاصل ہیں اس لئے وہ اپنی بے چارگی کو بھولارہتا ہے۔ وہ اپنی حقیقت سے ناآشنا رہتا ہے۔
اگر آدمی سے موجودہ دنیا چھین لی جائے۔ جہاں پانی اور غذا ہے، جہاں ہوا اور روشنی ہے، جہاں فطرت کی قوتوں کو مسخر کرکے تمدن بنانے کے امکانات ہیں۔ اگر موجودہ دنیا آدمی سے چھین لی جائے تو خلا کے کسی دوسرے مقام پر وہ اپنے لئے اس قسم کی ایک اور دنیا کی تخلیق نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد اس کا انجام اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ وہ اندھیرے میں بھٹکتارہے۔
دنیا میں آدمی پر مصیبت پڑتی ہے تو وہ آہ و ویلا کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ آنے والے دن کو جانے تو وہ کہے گا کہ خدا یا جو کچھ بیت رہا ہے اس سے کہیں زیادہ سخت ہے وہ جو بیتنے والا ہے۔ دنیا میں آدمی کو عزت اور آرام حاصل ہو تو وہ فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ آنے والے لمحات کو جانے تو وہ کہے گا کہ خدا یا اس عزت اور آرام کی کوئی حیثیت نہیں، اگر آنے والے طویل تر مرحلہ میں وہ باقی نہ رہے۔
موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ ایک نئے مرحلۂ حیات کا آغاز ہے۔ یہ نیا مرحلہ کسی کے لئے تمام مصیبتوں سے زیادہ بڑی مصیبت کا غار ہوگا اور کسی کے لئے تمام راحتوں سے زیادہ بڑی راحت کا دروازہ ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues