قرآن کا اہم ترین حصہ
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۱۵
آنے والے ہولناک دن سے آگاہ کردیں ۔ جو شخص آپ کی بات مان کر اپنی اصلاح کرلے گا وہ جنت میں جائے گا ۔ اور جو شخص آپ کی بات نہیں مانے گا اور اس کے مطابق اپنے کو درست نہیں کرے گا اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔
یہ حدیث واضح طور پر دعوت و تبلیغ کے بارہ میں ہے مگر صاحب کتاب نے اس کو جس عنوان کے تحت درج کیا ہے وہ یہ ہے :
باب الخوف من الله تعالى والانتهاء عن المعاصى والجنة قريبة ۔
اللہ تعالیٰ کا خوف اور گناہوں سے رکنا اور یہ کہ جنت قریب ہے۔
بعد کے زمانہ میں لکھی جانے والی اکثر کتابوں کا یہی حال ہے۔ ان کتابوں میں آپ طہارت سے ۔ لے کر قتال تک کے تمام ابواب پائیں گے۔ مگر دعوت الی اللہ اور تبلیغ ما انزل اللہ کا اس میں کوئی باب نہ ہوگا۔ یہ صرف عام مصنفین کا حال نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے علماء اور مصنفین بھی اس سے مستثنی نہیں ۔
یہی سبب ہے کہ بعد کے دور میں مسلمانوں میں ہم ہر طرح کی سرگرمیاں دیکھتے ہیں مگر دعوت الی اللہ اور شہادت حق کی سرگرمی ہمیں ان کے یہاں نظر نہیں آتی۔ اگر چہ اسلام کی اشاعت کا کام کسی بھی دور میں بند نہیں ہوا۔ ہر دور میں خدا کے بندے بے شمار تعداد میں خدا کے دین میں داخل ہوتے رہے اور آج بھی داخل ہورہے ہیں۔ مگر یہ سب زیادہ تر اسلام کی اپنی قوت سے ہورہا ہے نہ کہ شعوری طور پر مسلمانوں کی کسی دعوتی جدوجہد سے ۔ بعد کی تاریخ میں مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والی یہ سب سے بڑی کمی ہے جس نے مسلمانوں کو غیر مسلمین کے مقابلہ میں خدا کی نصرت سے محروم کردیا ہے ، جب تک اس کمی کو دور نہ کیا جائے مسلمانوں کو کبھی دنیا میں برتری کا مقام حاصل نہیں ہوسکتا ۔ موجودہ زمانہ میں بظاہر مسلمانوں کے درمیان "دعوت اسلامی کا کافی چرچا نظر آرہا ہے۔ مگر ان کی کارروائیوں کو دیکھنے اور ان کی کانفرنسوں میں شرکت کے بعد میرا احساس یہ ہے کہ مختلف اسباب سے لوگ دعوت کا نام تو لے رہے ہیں۔ مگر شاید ان پر یہ واضح نہیں کہ دعوت سے حقیقتًا کیا مراد ہے۔ لوگ سیاسی ہنگامے برپا کرتے ہیں اور قومی مسائل پر پرجوش تقریریں کرتے ہیں اور اسی کو دعوت کا عنوان دے رہے ہیں۔ حالانکہ دعوت خدائی پیغام رسانی کا نام ہے نہ کہ قومی اور مادی ہنگامہ آرائی کا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues