نامعلوم مستقبل
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۱۴
نامعلوم مستقبل
آدمی اس دنیا میں معصوم کلی کی طرح پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے والدین امنگوں اور حوصلوں کے ساتھ اس کو پالتے ہیں ۔ وہ بڑا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد وہ ایک ایسی دنیا میں اپنی زندگی کی جدوجہد شروع کرتا ہے جہاں اس کے لئے تلخ تجربات اور ناخوشگوار یادوں کے سوا اور کوئی چیز موجود نہیں۔
انسان آرزوں کے محل بناتا ہے، صرف اس لئے کہ سنگین حقائق اس کی نفی کرکے اس کو ہمیشہ کیلئے مٹا دیں۔ وہ حوصلوں کی دنیا آباد کرتا ہے۔ مگر اس کے حوصلے صرف اس کے دماغ میں رہ جاتے ہیں۔ وہ خارجی دنیا میں واقعہ نہیں بنتے ۔ وہ امیدیں قائم کرتا ہے ۔ مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی امیدیں فرضی سپنے کے سوا اور کچھ نہ تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زندگی ایک نازک شیشہ ہے جو صرف اس لئے دنیا میں آتی ہے کہ حالات کی چٹان سے ٹکرا کر چور چور ہو جائے۔ آدمی موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز سنہری آرزوں کے ساتھ کرتا ہے۔ مگر بالآخر جو چیز اس کے حصہ میں آتی ہے وہ صرف آرزوں کا ایک قبرستان ہے جو اس کے سینے میں دفن ہو کر رہ جاتا ہے کیسی کیسی امیدیں ، کیسی کیسی تمنائیں اور کیسے کیسے خواب ہوتے ہیں جن کی وہ اپنی روح کے سب سے نازک گوشہ میں پرورش کرتا ہے۔ مگر سب کا سب نا تمام رہتا ہے۔ وہ حسرتوں کا قبرستان بنا ہوا زندگی کے دن پورے کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجاتا ہے جب کہ وہ ایک نامعلوم مستقبل کی طرف دھکیل دیا جائے ۔
انسان کا ماضی امیدوں اور تمناؤں کا ماضی ہے ۔ اس کا حال ناکامیوں اور حسرتوں کا بہت بڑا مزار ہے۔ اور اس کا مستقبل ایک نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ لگانا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ آغاز اور کیسا عجیب ہے اس کا انجام۔
خدا نے ایسا کیوں کیا۔ اس کی کم از کم ایک وجہ یہ ہے کہ آدمی زندگی کے بارہ میں سنجیدہ ہو ۔ وہ زندگی میں کھو جانے کے بجائے زندگی کے آغاز و انجام کے بارہ میں سوچے ۔ جو شخص سنجیدگی کے ساتھ اس معاملہ میں سوچے گا وہ اس کامل حکمت کو پالے گا جس کی طرف یہ ناقص دنیا ہر آن اشارہ کر رہی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues