نامعلوم مستقبل
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۱۹
وَقَالَ مُوْسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ أَتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِيْنَةً وَأَمْوَالًا فِي الحیاۃ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيْلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيْمَ قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ اور موسیٰ نے کہا، اے ہمارے رب، تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں رونق اور مال دیا ہے۔ اے ہمارے رب، اس لئے کہ وہ تیری راہ سے لوگوں کو بھٹکائیں۔ اے ہمارے رب، ان کے مال کو غارت کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ وہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب کو دیکھ لیں۔ فرمایا، تم دونوں کی دعا قبول کی گئی۔ اب تم دونوں جمے رہو اور ان لوگوں کی راہ کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے جو لوگ آخرت کی فکر کرتے ہیں وہ عام طور پر دنیوی ساز و سامان جمع کرنے میں ان لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو آخرت سے بے فکر ہو کر دنیا حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہوں۔ دنیوی کی آخرت کی طرف دھیان لگانے کی قیمت ہے، اور دنیوی زیادتی آخرت سے غافل ہونے کی قیمت۔
مزید یہ کہ جس کے پاس دنیا کی رونق اور سامان زیادہ جمع ہو جائیں وہ بڑائی کے احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اپنے اندر یہ صلاحیت کھو دیتے ہیں کہ کسی دوسرے کی زبان پر جاری ہونے والے حق کو پہچانیں اور اس کے آگے جھک جائیں۔ اپنے وسائل کو اگر وہ خدا کا عطیہ سمجھتے تو اس کو حق کی تائید میں استعمال کرتے، مگر وہ اس کو اپنا ذاتی کمال سمجھتے ہیں اس لئے وہ اس کو صرف اس مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں کہ حق کو دبائیں اور اس طرح ماحول کے اندر اپنی برتری قائم رکھیں۔ ”تاکہ وہ تیری راہ سے بھٹکائیں“ کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے دئے ہوئے مال و اسباب کو صرف اس لئے استعمال کیا کہ اس کے ذریعہ سے خدا کے بندوں کو خدا سے دور کریں انہوں نے اس کو حق کی خدمت میں لگانے کے بجائے باطل کی خدمت میں لگایا۔ یہاں شدت بیان کی خاطر کلام کا اسلوب بدل گیا ہے۔
حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے سچے دین کی دعوت پیش کی اور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں اور خدا کی نصرتوں کے ذریعہ اس کو اتمام حجت کی حد تک واضح کر دیا، اس کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیوں نے آنجناب کے پیغام کو نہیں مانا۔ اس وقت حضرت موسیٰ نے دعا کی کہ خدا یا
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues