نامعلوم مستقبل
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۲۷
آتے رہتے ہیں جو انسان کو خدا اور آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ بنائیں ۔ مگر یہ سب کچھ عالم امتحان میں ہوتا ہے ، یعنی ایسی دنیا میں جہاں آدمی کو اختیار ہے کہ مانے یا نہ مانے۔ چنانچہ آدمی یہ کرتا ہے کہ جب نشانیاں اور ڈراوے سامنے آتے ہیں تو وہ ان کی کوئی نہ کوئی خود ساختہ توجیہہ کر کے بات کو دوسرے رخ کی طرف پھیر دیتا ہے اور نصیحت سے محروم رہ جاتا ہے۔ جب آدمی دلیل کی زبان میں بات کو نہ مانے تو گویا وہ صرف اس دن کا انتظار کر رہا ہے جب کہ امتحان کا پردہ ہٹا دیا جائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ سنانے کے لئے سامنے آجائے۔ مگر وہ دن جب آئے گا تو وہ آج کے دن سے بالکل مختلف ہوگا۔ آج تو ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں بظاہر یکساں حالت میں نظر آتے ہیں۔ مگر جب فیصلہ کا دن آئے گا تو اس کے بعد وہی لوگ امن میں رہیں گے جو حق پرست ثابت ہوئے تھے ۔ بقیہ تمام لوگ اس طرح عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے کہ اس کے بعد ان کے لئے کوئی راہ نہ ہوگی جس سے بھاگ کر وہ نجات حاصل کریں۔
قُلْ یٰأَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ فَلَا أَعْبُدُ الَّذِيْنَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُوْنِ اللَّهِ وَلٰكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِيْ يَتَوَفَّاكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ * وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿ وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذَا مِنَ الظَّلِمِينَ ﴾ وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُو وَإِنْ يُرْدِكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ يُصِيْبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ کہو، اے لوگو اگر تم میرے دین کے متعلق شک میں ہو تو میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو اللہ کے سوا۔ بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تم کو وفات دیتا ہے اور مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں ایمان والوں میں سے بنوں۔ اور یہ کہ اپنا رخ یکسو ہو کر دین کی طرف کروں۔ اور مشرکوں میں سے نہ بنوں۔ اور اللہ کے علاوہ ان کو نہ پکارو جو تم کو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ پھر اگر تم ایسا کرو گے تو یقیناً تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ۔ اور اگر اللہ تم کو کسی تکلیف میں پکڑلے تو
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues