نامعلوم مستقبل
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۲۸
تذکیر القرآن یونس ۱۰ اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کو دور کرسکے۔ اور اگر وہ تم کو کوئی بھلائی پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے - ۱۰۶-۱۰۷ داعی اولاً دلیل کی زبان میں اپنی بات کہتا ہے۔ مگر جب لوگ دلیل سننے کے باوجود شک و شبہہ میں پڑے رہتے ہیں تو اس کے پاس آخری چیز یہ رہ جاتی ہے کہ عزم کی زبان میں اپنے پیغام کی صداقت کا اظہار کر دے۔
توحید کے داعی کا مشرک کے پرستاروں سے یہ کہنا کہ "میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی عبادت تم لوگ کرتے ہو، محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک دلیل بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں بھی تمہارے جیسا ایک انسان ہوں۔ میرے پاس بھی وہی عقل ہے جو تمہارے پاس ہے۔ پھر جس بات کی صداقت میری سمجھ میں آرہی ہے اس کی صداقت تمہاری سمجھ میں آخر کیوں نہیں آتی۔ سچائی اگر ایک انسان کی سطح پر قابل فہم ہو جائے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے لئے بھی قابل فہم تھی۔ اس کے باوجود اگر دوسرے لوگ انکار کریں تو یقیناً اس کی وجہ خود ان کا اپنا کوئی نقص ہوگا نہ کہ دعوت حق کا نقص ۔ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ رہا ہو اور دوسرا آنکھ والا شخص اسے نہ دیکھے تو وہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آنکھ والا حقیقۃ آنکھ والا نہیں ۔ کیونکہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ جس چیز کو ایک آنکھ والا دیکھ لے اس کو دوسرا شخص آنکھ رکھتے ہوئے نہ دیکھ سکے ۔
موت اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی اس دنیا میں کامل طور پر بے اختیار ہے۔ موت ان تمام چیزوں کو باطل ثابت کر دیتی ہے جن کے سہارے سے آدمی انکار اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ موت ایک طرف آدمی کو اپنے عجز اور دوسری طرف خدا کی قدرت کا تعارف کراتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں کوئی نہیں جس کو نفع دینے یا نقصان پہنچانے کا اختیار حاصل ہو۔ اس طرح موت آدمی کو ہر دوسری چیز سے کاٹ کر خدا کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ مکمل طور پر انسان کو خدا کا پرستار بناتی ہے۔ اگر آدمی کے اندر سبق لینے کا ذہن ہو تو صرف موت کا واقعہ اس کی اصلاح کے لئے کافی ہو جائے۔
ہر انسان پر ایک وقت آتا ہے جب کہ وہ بے بسی کے ساتھ اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دیتا ہے۔ اسی طرح کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ فائدہ اور نقصان کے معاملہ میں وہی ہونے دے جو وہ چاہتا ہے۔ وہ مطلوب فائدہ کو ہر حال میں پالے اور غیر مطلوب نقصان سے ہر حال میں محفوظ رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues