نامعلوم مستقبل
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۲۹
تذکیر القرآن یونس ۱۰ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ انسان ایک بے اختیار مخلوق ہے۔ وہ ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں کوئی اور بھی ہے جو اس کے اوپر حکمرانی کر رہا ہے۔
قُلْ یٰاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنِ اهْتَدٰى فَإِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهِ ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَمَا اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ ۭ وَاتَّبِعْ مَا يُوْحٰى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحٰكِمِيْنَ کہو، اے لوگو تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آگیا ہے۔ جو ہدایت قبول کریگا وہ اپنے ہی لئے کرے گا اور جو بھٹکے گا تو اس کا وبال اسی پر آئے گا، اور میں تمہارے اوپر ذمہ دار نہیں ہوں۔ اور تم اس کی پیروی کرو جو تم پر وحی کی جاتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۱۰۸ - دعوت کا کام اصلاً اعلان حق کا کام ہے۔ کسی گروہ کے اوپر اس وقت پیغام رسانی کا حق ادا ہو جاتا ہے جب کہ داعی امر حق کو دلیل کے ذریعہ پوری طرح واضح کر دے اور اسی کے ساتھ اس بات کا ثبوت دیدے کہ وہ اس معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ہے۔
داعی اگر وقت کے معیار کے مطابق امر حق کو مدلل کر دے۔ وہ نفع نقصان سے بے نیاز ہو کر حق کی مکمل گواہی دیدے۔ وہ ہر تکلیف اور ناخوش گواری کو برداشت کرتا ہوا اپنے دعوتی کام کو جاری رکھے تو اس کے بعد مخاطب کے اوپر وہ اتمام حجت ہو جاتا ہے جس کے بعد خدا کے یہاں کسی کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہے۔
داعی کا کام اصلاً اتباع وحی ہے۔ یعنی اپنی ذات کی حد تک عملاً مرضی رب پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو مرضی رب کی طرف پکارتے رہنا۔ اس کام کو ہر حال میں حکمت اور صبر اور خیر خواہی کے ساتھ مسلسل جاری رکھنا ہے۔ اس کے بعد جتنے بقیہ مراحل ہیں وہ سب براہِ راست طور پر خدا سے متعلق ہیں۔ داعی کی طرف سے کوئی دوسرا عملی اقدام صرف اس وقت درست ہے جب کہ خود خدا کی طرف سے اس کا فیصلہ کیا جا چکا ہو ۔ اور اس کے آثار ظاہر ہو جائیں۔
خدا کا فیصلہ ہمیشہ حالات کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب خدا کے علم میں داعی کا دعوتی کام مطلوب حد کو پہنچ چکا ہوتا ہے تو خدا حالات میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے جس کو استعمال کر کے داعی اپنے عمل کے اگلے مرحلہ میں داخل ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues