Al-Risala · June 1983 · page 42

I just want to stay in Barbados forever

الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۴۲

الیجا محمد سفید فام تہذیب کا ردعمل تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام صرف کالوں کا مذہب ہے۔ جنت میں کالے لوگ جائیں گے ۔ انہوں نے رسول خدا ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ مگر بلیک مسلم کے موجودہ قائد جو الیجا محمد کے لڑکے ہیں، جن کا اصل نام اکبر ہے انہوں نے الازہر (قاہرہ) میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد بلیک مسلم طبقہ کے لوگ کثرت سے مسلم ممالک میں گئے ۔ انہوں نے مسلموں کو دیکھا ۔ وہ حج کرنے گئے ۔ ان تجربات نے ان میں بنیادی تبدیلیاں کیں۔ خاص طور پر حج میں انہوں نے دیکھا کہ کالے اور گورے ہر قسم کے لوگ ایک ہی قسم کا لباس پہنے ہوئے کعبہ کے گرد طواف کر رہے ہیں ۔ اب بھی اگر چہ بلیک مسلمانوں میں کچھ خرابیاں ہیں مگر اب انہیں پہلے کی طرح گمراہ نہیں کہا جا سکتا۔

کانفرنس کی کاروائیاں (برج ٹاؤن) سے باہر ایک ہوٹل میں ہوئیں۔ برج ٹاؤن میں پانچ سو سے کچھ زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور شہر جانے کے لئے اصرار کیا۔ چنانچہ میں کانفرنس سے فارغ ہو کر شہر چلا گیا ۔ اور وہاں چار روز برابر قیام رہا۔

باربیڈوز میں مسلمان نسبتاً زیادہ ہیں۔ تاہم کریببین کے اکثر جزیروں میں مسلمان آباد ہیں۔ یہ لوگ ابتداً برطانوی سلطنت کے زمانہ میں انیسویں صدی میں یہاں آئے۔ انگریز ان کو زرعی مزدور کے طور پر یہاں لائے تھے ۔ اب یہ لوگ یہاں کے باشندے ہیں اور زیادہ تر تجارت کا کام کرتے ہیں۔

باربیڈوز (برج ٹاؤن) میں دو مسجدیں ہیں۔ دونوں آباد ہیں۔ ان دونوں مسجدوں میں اور مسجد کے باہر میری چند تقریریں ہوئیں ۔ لوگ بہت دلچسپی کے ساتھ سنتے رہے۔ وہ مصر تھے کہ میں مزید کچھ دن باربیڈوز میں ٹھہروں ۔ کچھ لوگ مجھ کو باصرار ٹرینیڈاڈ لے جانا چاہتے تھے۔ اور وہاں کم از کم دو ہفتہ کا پروگرام رکھ رہے تھے۔ مگر بعض فوری کاموں کی وجہ سے مجھے دہلی جلد واپس آنا ضروری تھا اس لئے میں ٹرینیڈاڈ (Trinidad) کا سفر نہ کر سکا۔

باربیڈوز میں جو مسلمان ہیں وہ زیادہ تر گجرات (ہندوستان) کے علاقہ سے آئے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر پھیری کی تجارت کرتے ہیں۔ وہ برج ٹاؤن کی بڑی بڑی

‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues

Printed page