I just want to stay in Barbados forever
الرسالہ، جون ۱۹۸۳، صفحہ ۴۱
مستقل اہمیت رکھتا ہے ۔ اس لئے ہم سب لوگوں کو اس کے ایک ایک نسخے فراہم کئے جائیں ۔ صدر اجلاس کی طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ مقالہ کی کاپیاں تیار کی جارہی ہیں اور اسی اجلاس کے دوران وہ تمام لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے گا ۔ چنانچہ اگلے دن مقالہ کی مطبوعہ کاپی ہر شریک اجتماع کی میز پر موجود تھی ۔ پانچ دن کی ہر نشست قرآن کی تلاوت سے شروع ہوئی ۔ مسلمانوں کا ہر اجتماع ہمیشہ قرآن کی تلاوت سے شروع ہوتا ہے ۔ جب بھی اس طرح کا موقع آتا ہے تو مجھ پر ایک عجیب احساس ہوتا ہے ۔ قرآن کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے ہر صفحہ پر آخرت اور جنت اور دوزخ کا بیان ہے ۔ چنانچہ جب بھی قرآن کا کوئی حصہ قاری پڑھتا ہے تو اس میں ہمیشہ آخرت کا اور جنت دوزخ کا بیان انتہائی شدت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی وہ بات جو بطور " تلاوت " ہر اجتماع میں دہرائی جاتی ہے وہی آج تک میرے کانوں نے خود اجتماع کی کاروائیوں میں کہیں نہیں سنی ۔ دوسرے لوگ جو کسی اجتماع سے لوٹ کر آتے ہیں ان سے بھی جب متعلقہ اجتماع کی کاروائی کے بارہ میں میں پوچھتا ہوں تو ہمیشہ ایسی تفصیلات سننے کو ملتی ہیں جن میں سب کچھ ہوتا ہے مگر یہی ایک چیز نہیں ہوتی ۔ اجتماع کا خاتمہ ۴ اپریل ۱۹۸۳ء کو قرآن کی تلاوت اور دعا پر ہوا ۔ ڈاکٹر معتوق الزبیدی نے اپنی تقریر میں ایک ایمان افروز واقعہ بیان کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ویٹیکن کے پوپ نے ساحل العاج (Ivory Coast) کا دورہ کیا۔ پوپ کی آمد پر حکومت نے ہدایت جاری کی کہ تمام لوگ ، خواہ وہ جس مذہب کے بھی ہوں پوپ کے استقبال کے لئے نکلیں ۔ چنانچہ مسلمانوں کو بھی اس عمومی حکم کے تحت نکلنا پڑا ۔ مسلمان دوسرے لوگوں کے ساتھ میدان میں جمع ہوئے ۔ وہاں ظہر کا وقت آگیا ۔ مسلمانوں نے یہ کیا کہ وہیں بلند آواز سے اذان دی اور میدان میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ پوپ نے باجماعت نماز کا منظر دیکھا تو اس پر بہت اثر ہوا ۔ پوپ نے کہا : جب تک مسلمان کے اندر یہ اتحاد اور اسپرٹ باقی ہے ہمارا وجود یہاں بالکل بے معنی ہے ۔
ایک مصری عالم (عبد المنعم الخطاب) جو امریکہ میں رہتے ہیں ، نے بتایا کہ امریکہ کے بلیک مسلم آج اس سے مختلف ہیں جو اس کے ابتدائی بانی ایلجا محمد کے زمانہ میں تھے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1983 All issues