دو قسم کی روحیں
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۲
دو قسم کی روحیں
قرآن کی سورہ نمبر ۹۱ میں ارشاد ہوا ہے : قد افلح من زکھا و قد خاب من دسھا( (وہ شخص کامیاب رہا جس نے اپنے آپ کو پاک کیا اور وہ شخص برباد ہوگیا جس نے اپنے آپ کو گندا کیا) موجودہ زندگی آخرت سے پہلے کا ابیک امتحانی موقع ہے۔ جو شخص یہاں سے نیک اور ستھری روح لے کر آخرت کی دنیا میں پہنچے گا وہ وہاں جنت کی پر مسرت فضاؤں میں بسایا جائے گا اور جو شخص یہاں سے برائیوں میں لپٹی ہوئی روح لے کر آخرت کی دنیا میں جائے گا اس کو وہاں جہنم کے پر عذاب ماحول میں دھکیل دیا جائے گا۔
موجودہ دنیا گویا خدا کی نرسری ہے۔ نرسری میں مختلف قسم کے پودے اگائے جاتے ہیں ۔ زمین میں روئیدگی کی قوت بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ یہاں طرح طرح کے پودے اگ آتے ہیں۔ مالی ان سب کی جانچ کرتا ہے۔ جو پودے غیر مطلوب پودے ہیں ان کو وہ کاٹ کر پھینک دیتا ہے۔ اور جو پودے اس کے مطلوب پودے ہیں ان کو اہتمام سے نکال کر لے جایا جاتا ہے تا کہ کسی باغ میں ان کو پھلنے پھولنے کے لئے نصب کر دیا جائے۔
موجودہ دنیا میں آدمی کے لئے یک وقت دونوں مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ وہ چاہے تو اپنی روح کو پاک کرے اور چاہے تو گندا کرتا رہے۔ کوئی وہ شخص ہے جو اللہ کی بڑائی کو مان کر اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیتا ہے۔ اس کے سامنے جب کوئی حق آتا ہے تو وہ بے جھجھک اس کا اعتراف کر لیتا ہے۔ لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ خیر خواہی اور انصاف کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ دوستی ہو یا دشمنی ہر حال میں وہ خدا کی مرضی پر چلتا ہے نہ کہ اپنے نفس کی مرضی پر۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اپنی روح کو پاک کیا۔ اس کو اس کا خدا جنت کی پر بہار دنیا میں بسائے گا۔
دوسرا آدمی وہ ہے جو خود اپنی بُرائی میں گم رہتا ہے۔ اس کے سامنے حق آتا ہے تو وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ معاملات میں وہ سرکشی اور بے انصافی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنی مرضی پر چلتا ہے نہ کہ خدا کی مرضی پر۔ یہی وہ آدمی ہے جس نے اپنی روح کو گندا کیا۔ کائنات کا مالک اس کو اپنے پڑوس کے لئے قبول نہیں کرے گا۔ وہ اس کو جہنم میں دھکیل دے گا تا کہ وہ ابدی طور پر اپنے جرم کی سزا بھگتتا رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues