Al-Risala · January 1983 · page 3

ہم کہاں ہیں

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۳

ہم کہاں ہیں

لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان بنی اسرائیل میں سے جنھوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی داؤد و عیسی ابن مریم ذلك بما عصوا و کانوا داؤد اور عیسی ابن مریم کی زبان سے۔ یہ اس لئے کہ يعتدون ۔ كانوا لا يتناهون عن منکر فعلوه انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے گزر گئے تھے۔ وہ لبئس ما كانوا يفعلون (المائده ۷۹-۷۸) آپس میں ایک دوسرے کو برے کام سے روکتے نہ تھے جو وہ کر رہے تھے کیسی بری روش تھی جو انھوں نے اختیار کی۔

یہود کی حیثیت قدیم زمانہ میں وہی تھی جو آج مسلمانوں کی ہے۔ اس اعتبار سے یہ آیت مسلم معاشرہ کے بارے میں خدا کے قانون کو بتا رہی ہے۔ اس کے مطابق مسلم معاشرہ کا حد سے گزرنا یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کو ستائیں اور ایک دوسرے پر زیادتی کرنے لگیں۔ ایسے وقت میں خدا کی طرف سے یہ فرض ہو جاتا ہے کہ جو شخص یہ دیکھے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا رہا ہے وہ فوراً اس کو روکنے کے لئے متحرک ہو جائے۔ کسی معاشرہ کے افراد میں اگر یہ روح ختم ہو جائے تو وہ مسلم معاشرہ خدا کی نظر میں ملعون ہے۔ اس پر خدا کی لعنت نازل ہوگی نہ کہ خدا کی رحمت۔

موجودہ مسلم معاشرہ کو دیکھئے تو آج اس کی حالت یہی ہو رہی ہے۔ ہر بستی اور ہر محلہ میں ہر روز ایسے واقعات ہورہے ہیں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ستارہا ہے۔ جس شخص کے پاس بھی کوئی پیسہ یا کوئی زور آگیا ہے اس کا دماغ گھمنڈ کا کارخانہ بنا ہوا ہے۔ کسی مسلمان بھائی سے اگر اس کو معمولی شکایت بھی پہنچ جائے تو اس کو اس وقت تک تسکین نہیں ہوتی جب تک وہ اس مسلمان کو ذلیل نہ کرلے۔ وہ اس کی بربادی کے لئے وہ سب کچھ کر ڈالتا ہے جو اس کے بس میں ہے۔

مسلم معاشرہ میں آج ہر جگہ اور ہر وقت یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ مگر کوئی کسی کو روکنے والا نہیں۔ کوئی کسی کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ البتہ ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی فوج تیار ہوگئی ہے جو مسلمانوں کی مظلومیت پر تقریریں کرنے اور مضامین لکھنے کو اپنا پیشانی پیشہ بنائے ہوئے ہے مسلمانوں کی قومی مصیبت پر لفظی بیان دینے میں ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ مگر مسلمانوں کی انفرادی مصیبت کے لئے کوئی نہیں دوڑتا۔ دوسرے کی یزیدیت کا اعلان ہر ایک کر رہا ہے مگر اپنی یزیدیت کی خبر کسی کو نہیں ــــــــــــ آدمی کے الفاظ کو سننے والا سب سے پہلے خدا ہوتا ہے، پھر یہ لوگ اپنے جھوٹے الفاظ آخر کس کو سنار ہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page