Al-Risala · July 1983 · page 2

نکلی ہوئی جماعتیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۲

نکلی ہوئی جماعتیں

ایک ہیپی دہلی کی سڑکوں پر گھوم رہا تھا۔ جسم پر سادہ کھردرے کپڑے، گلے میں مالا، ہاتھ میں کڑا اور کندھے پر ایک چھوٹی ڈھولک ۔ اس سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ کناڈا کا رہنے والا ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ کناڈا میں اس کے پاس ذاتی مکان، ذاتی کار، ایک اچھی بیوی اور عمدہ ملازمت تھی۔ اس کے بعد اس نے کہا: مگر یہاں میرا کوئی گھر نہیں۔ جہاں بھی نیند آتی ہے سو جاتا ہوں، چاہے وہ فٹ پاتھ کیوں نہ ہو۔ میرے پاس یہاں کوئی سواری نہیں۔ ملازمت نہیں۔ میری بیوی مجھ کو چھوڑ چکی ہے ۔ " یہ جو بال اور داڑھی آپ بڑھی ہوئی دیکھ رہے ہیں، یہ صرف پچھلے چھ مہینہ کی پیداوار ہیں" یہ کہہ کر اس نے اپنے بیگ کے اندر سے اپنا پاسپورٹ نکالا۔ پاسپورٹ کی سابقہ تصویر میں وہ ایک خوبرو نوجوان دکھائی دے رہا تھا۔

" پھر آپ نے کناڈا ، جیسے ملک کو چھوڑ کر انڈیا کو کیوں پسند کیا؟ اس کے جواب میں اس نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ رک رک کر یہ الفاظ کہے :

There I was comfortable physically. Here I am comfortable spiritually وہاں مجھ کو جسمانی سکون تھا، یہاں مجھ کو روحانی سکون ہے ۔ (الجمعیتہ دہلی، ۱۰ جولائی ۱۹۷۰) تبلیغی جماعت مسلمانوں میں دینی بیداری کا کام نہایت کامیابی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اس کی کامیابی کا خاص راز وہ ” تدبیر“ ہے جو اس سلسلے میں اس نے اختیار کی ہے۔ اس کی تدبیر یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے ماحول سے نکال کر باہر لے جایا جائے۔ آدمی اپنے ماحول میں دنیوی مسائل میں مشغول رہتا ہے۔ اس کا ذہن دینی امور پر سوچنے کے لئے فارغ نہیں ہوتا۔ مگر جب وہ اپنے ماحول کو چھوڑ کر باہر کی دنیا میں آجاتا ہے تو اس وقت اس کا ذہن اس قابل ہوجاتا ہے کہ جو کچھ اس سے کہا جائے اس کو سنے اور پکڑے۔

مغرب کے یہ ہیپی گویا غیر مسلموں میں سے اسی قسم کے نکلے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ اپنے آپ نکلی ہوئی جماعتیں ہیں۔ ضرورت ہے کہ غیر مسلموں کی ان نکلی ہوئی جماعتوں کو دین سکھانے کے لئے اسی طرح استعمال کیا جائے جس طرح تبلیغی جماعت مسلمانوں کو باہر نکال کر انہیں دین سکھانے کی مہم چلا رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues

Printed page