Al-Risala · July 1983 · page 3

بڑی چھلانگ کب

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۳

بڑی چھلانگ کب

امریکی خلا باز آرمسٹرانگ (Neil Armstrong) نے جولائی ۱۹۶۹ میں پہلی بار چاند پر قدم رکھا تھا۔ جب وہ اپنی خلائی مشین کے ساتھ چاند پر اترا تو امریکہ کے مشن کنٹرول کو اس کے یہ الفاظ موصول ہوئے: یہ ایک آدمی کے لئے ایک چھوٹا قدم ہے مگر انسانیت کے لئے وہ ایک عظیم چھلانگ ہے:

That's one small step for a man, one giant leap for mankind آرمسٹرانگ اور اس کے دو ساتھی امریکہ کے ۳۰ بہترین خلا بازوں میں سے چنے گئے تھے ۔ ان کے اندر وہ خصوصیات امتیازی درجہ میں موجود تھیں جو اس مشکل تاریخی مہم کے لئے درکار تھیں ۔ پرواز میں غیر معمولی مہارت ، ذہانت اور قوت ، معلومات کو اخذ کرنے کی صلاحیت ، برف کی طرح ٹھنڈا ہونے کے باوجود چیلنج کو بے خطر قبول کرنا۔ پھر ان کو شدید قسم کے تربیتی کورس سے گزرنا پڑا۔ مثلاً وہ دیر دیر تک گہرے پانی میں رہے تاکہ بے وزنی کی حالت کے عادی بن سکیں۔ انہوں نے بے شمار قسم کے ممکن ہنگامی حالات (Emergencies) کا تجربہ کیا۔ انہوں نے فلکیات ، خلا بازی ، راکٹ کی پرواز کے کورس پڑھے ۔ انہوں نے خلائی کمپیوٹر اور چاند کی طبیعیات کا مطالعہ کیا۔

ان کا ۳۱۰۰ ٹن کا آپالو ۱۱ ایک عظیم دیو معلوم ہوتا تھا۔ وہ ۳۶ منزلہ عمارت کے برابر اونچا تھا۔ اس کے اندر آٹھ ملین پرزے تھے اور ۹۱ انجن نصب تھے۔ سب سے اوپر وہ چھوٹی سی مشین (Columbia) تھی جس کے اندر خلا بازوں کو بیٹھ کر اپنا سفر طے کرنا تھا۔ خلائی مشین نے اوپر بلند ہو کر ڈھائی گھنٹہ زمین کا چکر لگایا۔ اس کے بعد اس کی رفتار ۲۰۳ میل فی منٹ ہوگئی۔ ۳۰۰ میل کی بلندی پر پہنچ کر کو لمبیا الگ ہو گئی۔ اس مشین کا نیچے اور پنتک تمام حصہ پرزوں سے بھرا ہوا تھا ۔ خلا بازوں کے بیٹھنے کے لئے مشکل سے اتنی جگہ تھی جتنی ایک ٹیکسی میں ہوتی ہے۔ بالآخر خلا باز چاند پر اترے۔ وہاں سے ۴۶ پونڈ مٹی لی۔ انہوں نے چاند کی سطح پر پانچ لاکھ پونڈ کے آلات چھوڑے۔ چاند کی سطح پر انہوں نے دوسری چیزوں کے ساتھ اپنے قدموں کا نشان بھی چھوڑا جو وہاں تقریباً نصف ملین سال تک باقی رہے گا۔ اتنی زیادہ تیاریوں کے بعد وہ چھوٹا قدم اٹھایا جا سکا جس کا نتیجہ ایک بڑی چھلانگ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues

Printed page