اعلیٰ ظرفی
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۴
اعلیٰ ظرفی
مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے سرسید مرحوم کا ایک واقعہ (الافاضات الیومیّہ، جلد ۱) ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
ایک انگریزی تعلیم یافتہ شخص ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھا۔ کیا سوجھی کہ ایک بڑے انگریز افسر کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں سرسید کا داماد ہوں مجھ کو ملازمت کی ضرورت ہے۔ وہ انگریز بہت ہی خاطر سے پیش آیا اور کہا کہ آپ ٹھہریں۔ اس کو ٹھہرا کر اس کی لاعلمی میں ایک تار سرسید کو دیا کہ فلاں شخص اس نام کا ہمارے پاس ملازمت کے خیال سے آیا ہے اور اپنے آپ کو آپ کا داماد کہتا ہے کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟
جواب میں سرسید نے اس انگریز کو لکھا بالکل صحیح ہے۔ ضرور آپ ملازمت کے لئے کوشش فرمادیں میں آپ کا ممنون ہوں گا۔ اس شخص کو ملازمت مل گئی۔
ایک روز اتفاقاً اس انگریز نے اس شخص سے یہ واقعہ (سرسید سے تحقیق حال کا) بیان کردیا۔ یہ بہت ہی شرمندہ ہوا اور کچھ عرصہ کے بعد یہ شخص علی گڑھ آیا۔ اور سرسید سے مل کر معافی کی درخواست کی اور کہا کہ میں وہی ہوں جس نے اپنے آپ کو آپ کا داماد بتا کر ملازمت لی ہے۔ یہ گستاخی بضرورت تھی۔
سرسید نے جواب میں کہا کہ گو یہ بات اس وقت غلط تھی۔ مگر اب صحیح ہو جائے گی، داماد کہتے ہیں بیٹی کے شوہر کو۔ اس کی ایک صورت تو یہ تھی کہ میری بیٹی آپ کی بیوی ہوتی سو یہ تو نہیں ہو سکتا۔ مگر دوسری صورت ممکن ہے وہ یہ کہ آپ کی بیوی کو میں اپنی بیٹی بنالوں سو میں آپ کی بیوی کو اپنی بیٹی بناتا ہوں اور وہ میری بیٹی اور میں اس کا باپ! یہ توجیہہ وقتی ہی نہ تھی۔ بلکہ تازندگی باپ بیٹی اور داماد کا سا برتاؤ رکھا۔ بلانا، لینا دینا سب اسی طرح رکھا۔ (تہذیب الاخلاق علی گڑھ)
ساری دنیا کا ہمدرد بننا بہت آسان ہے۔ مگر قوم کا ایک مصیبت زدہ فرد، جس سے ٹھیس بھی پہنچی ہو، اس کے معاملہ کو اپنا معاملہ بنالینا سخت مشکل ہے۔ یہ وہی شخص کر سکتا ہے جو قوم کا سچا خیر خواہ ہو اور اسی کے ساتھ بڑے دل والا بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues