روزہ کے بارہ میں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۶
اوپر حکمرانی کرے ۔ اس کا لطیف وجود اس کے کثیف وجود کو اپنے قبضہ میں رکھے۔ دونوں صاحبان نے اسی بات کو اپنے اپنے انداز اور اپنے اپنے لفظوں میں بیان کیا ۔ راقم الحروف نے جو بات کہی وہ یہ تھی کہ روزہ محض اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہے ۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ آدمی صبح سے شام تک کھانا پینا بند رکھے تو بس اس کا روزہ ہو گیا۔ روزہ کی یہ ظاہری صورت دراصل ایک علامت ہے اور اس کے ذریعہ ایک خاص روحانی اور اخلاقی سبق دینا مقصود ہے ۔
وہ سبق یہ ہے کہ دنیا میں آدمی کو چاہیے کہ وہ صحیح اور غلط اور جائز اور ناجائز میں فرق کرے، وہ صحیح اور جائز کو لے لے اور غلط اور ناجائز سے اپنے آپ کو بچائے ۔ یہی وہ چیز ہے جو اس کی آخرت میں آنے والی مستقل زندگی کو کامیاب بناتی ہے۔
یہ روزہ دراصل زندگی کا ایک گہرا اصول ہے ۔ دنیا میں ایک تاجر اپنے کو فضول خرچی سے بچاتا ہے ۔ ایک طالب علم اپنے اوقات کو بیکار ضائع کرنے سے بچاتا ہے ۔ ایک مزدور اپنے آپ کو کاہلی اور بددیانتی سے بچاتا ہے ۔ اس طرح بچاؤ کی زندگی گزارنے ہی کا نام موجودہ دنیا کی کامیابی ہے ۔ کاہلی ، فضول خرچی ، عیاشی ، ضیاع وقت سے آدمی اپنے آپ کو نہ بچائے تو وہ کسی طرح امتحان کی اس دنیا میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔
ایسا ہی کچھ معاملہ آخرت کا بھی ہے۔ اسلام کے نزدیک آخرت کی کامیابی کا راز روزہ دار زندگی“ ہے ۔ آدمی کو اپنی اگلی زندگی کو کامیاب بنانے کے لئے یہ کرنا ہے کہ وہ موت سے پہلے والی زندگی میں متقیانہ روش اختیار کرے ۔ وہ کچھ چیزوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھے ۔ آخرت کو برباد کرنے والی چیزوں سے بچنا اور ان کو چھوڑ کر حلال دائرہ میں زندگی گزارنا، یہی وہ سبق ہے جس کو دینے کے لئے روزہ فرض کیا گیا ہے۔
پھر اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو شخص دن بھر روزہ رکھتا ہے ، اس کو شام کے وقت کھانے کی لذت ملتی ہے۔ اسی طرح جو شخص دنیا میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے گا وہی آخرت میں زندگی کی حقیقی لذتوں کو پائے گا ۔ دن کا روزہ اگر موجودہ دنیا کی مشقتوں کی علامت ہے تو شام کا کھانا آخرت کی راحتوں کی علامت ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues