اسلامی کردار
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۷
اسلامی کردار
خدا سب سے بڑا ہے ۔ وہ سب سے زیادہ کامل ہستی ہے ۔ آدمی جب خدا کو پاتا ہے تو خدا کی خدائی اور اس کے مقابلہ میں اپنی بندگی کا احساس اس کی نفسیات کو بالکل بدل دیتا ہے ۔ اس کی اس نفسیات کا اظہار اس کی روزمرہ کی زندگی میں بھی ہوتا ہے اور اس کی دینی سرگرمیوں میں بھی ۔
ایسا آدمی بالکل فطری طور پر تواضع اور انکسار کا نمونہ ہوتا ہے ۔ اس کی باتوں میں مٹھاس اور اس کے عمل میں نرمی پائی جاتی ہے ۔ اس سے کسی کو شر کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ ہر ایک کو اس سے یہ امید ہوتی ہے کہ وہ انصاف کے حدود کا پابند رہے گا اور اپنے لئے اس چیز کا مطالبہ کرے گا جو فی الواقع اس کا اپنا ہے ۔ وہ ہر ایک کو اس کا حق ادا کرتا ہے اور برائی کا جواب بھلائی سے دینے کی کوشش کرتا ہے ۔
اس کا احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی کمزوری کا فوراً اعتراف کرلے ۔ وہ حسد اور گھمنڈ سے خالی ہوتا ہے ۔ کسی کی خوبی کا اعتراف کرنے میں اس کا دل تنگ نہیں ہوتا ۔ اس کی خوشی اس میں ہوتی ہے کہ کسی کے اندر عیب دیکھے تو اس کو چھپالے کسی سے قصور ہوجائے تو اس کے قصور کو معاف کر دے ۔ اس کی ذات کو کسی سے دکھ پہنچے تو اس کے اندر انتقام کی آگ نہیں بھڑکتی ۔ وہ دوسروں کے کام آ کر خوش ہوتا ہے ۔ وہ جو کچھ کرتا ہے اللہ کی خوشنودی کے لئے کرتا ہے نہ کہ اپنی غرض پوری کرنے کے لئے ، وہ تعریف و تنقید سے بے نیاز ہو کر اپنے کام میں مشغول رہتا ہے ۔
ایسا آدمی جب خدا کے لئے اٹھتا ہے تو اس کے مدعوئین کو اس کی طرف سے خدائی اخلاقیات کا تجربہ ہوتا ہے ۔ وہ لوگوں سے معاملہ کرنے میں عالی ظرف اور فراخ حوصلہ ہوتا ہے ۔ وہ ہر حال میں لوگوں کا ہمدرد اور خیر خواہ ہوتا ہے ۔ وہ شریف اور بردبار ہوتا ہے وہ خدا پر بھروسہ کرنے والا ہوتا ہے اور جو کچھ ملے اس پر قناعت کرنے والا ۔ وہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان حق اور ناحق کی بنیاد پر فرق کرتا ہے نہ کہ اس بنیاد پر کہ کون اس کا اپنا ہے اور کون اس کا اپنا نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues