جھوٹا سجدہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۱۱
جھوٹا سجدہ
فرشتے اور ابلیس دونوں خدا کی مخلوق ہیں۔ دونوں خدا کو سجدہ کر رہے تھے۔ مگر خدا نے جب آدم کو پیدا کیا اور دونوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ تو فرشتے فوراً جھک گئے مگر ابلیس نے جھکنے سے انکار کر دیا۔ یہ سجدہ آدم کی صورت میں خود سجدہ خداوندی کا امتحان تھا۔ فرشتے حکم خداوندی کی تعمیل میں آدم کے آگے جھکے اس لئے وہ خدا کے آگے جھکنے والے قرار پائے۔ ابلیس حکم خداوندی کے باوجود آدم کے سامنے نہ جھکا اس لئے وہ خدا کا ساجد ہونے کے باوجود خدا کا سرکش ٹھہرا اور ابدی طور پر جہنم کا مستحق ہو گیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے آگے جھکنے کی جانچ انسان کے آگے جھکنے کی صورت میں ہو رہی ہے۔ وہ سجدہ جھوٹا سجدہ ہے جبکہ آدمی خدا کے آگے سجدہ کرتا ہوا دکھائی دے اور جب انسان سے معاملہ پڑے تو وہ سرکشی کرنے لگے۔ وہ خدا کے سامنے خدا دالا ہو اور بندوں کے سامنے بے خدا والا۔
جس خدا نے انسان کو یہ حکم دیا ہے کہ میرے آگے جھکو، اسی خدا کا یہ حکم بھی ہے کہ دوسرے انسانوں کے حقوق ادا کرو۔ کسی انسان کی طرف سے کوئی سچی بات پیش کی جائے تو اس کو مان لو۔ کسی سے شکایت پیدا ہو تو اس کو معاف کر دو۔ کسی کی امانت تمہارے پاس ہو تو اس کو ادا کر دو۔ کسی کے معاملہ میں تمہارے اوپر کوئی اخلاقی ذمہ داری آتی ہو تو اس کو پورا کرو۔ کسی سے تم کم ہو تو اس کے خلاف حسد نہ کرو۔ کسی سے تم بڑے ہو تو اس کے مقابلہ میں گھمنڈ نہ کرو۔ اس قسم کی تمام صورتیں گویا انسان کے سامنے جھکنے کی صورتیں ہیں۔ ہر آدمی کا فرض ہے کہ جس طرح وہ خدا کے آگے جھکا ہے، اسی طرح وہ خدا کے حکم کی تعمیل میں اس کے بندوں کے آگے بھی جھک جائے۔
جس شخص کا یہ حال ہو کہ وہ خدا کے آگے جھکے مگر اسی خدا کے حکم کے باوجود انسان کے سامنے اکڑ دکھائے۔ وہ خدا کے آگے سجدہ کرے مگر اسی خدا کی خاطر انسان کے سامنے جھکنے پر راضی نہ ہو ۔ وہ خدا کا پرستار بنا ہوا ہو مگر اسی خدا کے لئے وہ ایک انسان کے منہ سے ظاہر ہونے والے حق کا اعتراف نہ کرے ۔ وہ بظاہر خدا والا نظر آتا ہو مگر انسان کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues