Al-Risala · July 1983 · page 12

جھوٹا سجدہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۱۲

ساتھ معاملہ کرنے میں وہ اپنے کو خدا والا ثابت نہ کرسکے ۔ ایسے آدمی کی عبادت جھوٹی عبادت ہے ۔ اس آدمی کا سجدہ جھوٹا سجدہ ہے جو خدا کے سامنے سجدہ کرتا ہوا دکھائی دے مگر جب انسان سے معاملہ پڑے تو اسی خدا کے حکم کے باوجود اس سے اکڑنے لگے ، اسی خدا کے حکم کے باوجود اس سے سرکشی کا طریقہ اختیار کرے ۔ مسجد کا رکوع اور سجدہ اس بات کا ایک اظہار ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو خدا کی تابعداری میں دیدیا ہے ۔ یہ تابعداری تقسیم نہیں ہوسکتی ۔ وہ معاملہ کے وقت بھی اسی طرح ظاہر ہوگی جس طرح وہ نماز کے وقت ظاہر ہوتی ہے ۔ ایسا آدمی انسانی تعلقات میں بھی اسی طرح خدا والا نظر آئے گا جس طرح وہ مسجد کی عبادت میں خدا والا نظر آتا ہے ۔

لوگ سجدہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے حکم کی بنا پر اس کے آگے سجدہ کر رہے ہیں مگر جب یہ دیکھا جائے کہ جس خدا کے آگے وہ سجدہ کر رہے ہیں اسی خدا کے حکم کے باوجود انسانوں کے سامنے نہیں جھکتے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا سجدہ شعور عبدیت کے تحت نہ تھا بلکہ کسی اور وجہ سے تھا ۔ اگر شعور عبدیت اس سجدہ کا سبب ہوتا تو وہی شعور عبدیت اس کا محرک کیوں نہ بنتا کہ وہ بندوں کے معاملہ میں خدا کے حکم کو تسلیم کرلیں ۔

سجدہ ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، خدا کے حکم کے آگے جھکنے کا نام ہے نہ کہ محض سر کو زمین پر رکھ دینے کا ۔ اگر زمین پر سر رکھنے کا نام سجدہ ہو تو مدینہ کے تمام منافقین روزانہ اپنا سر زمین پر رکھتے تھے ۔ پھر بھی وہ خدا کی نظر میں غیر ساجد قرار پائے ۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اگرچہ مخصوص اوقات میں اپنا سر زمین پر رکھتے تھے مگر زندگی کے معاملات میں جب خدا کا کوئی حکم ان کی خواہشات سے ٹکراتا تھا تو وہاں وہ خدا کے حکم کے آگے جھکنے پر راضی نہ ہوتے تھے ۔

انسان کی قلبی کیفیات ناقابل تقسیم ہیں ۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک جگہ وہ کچھ ہو اور دوسری جگہ کچھ ۔ ایک آدمی اگر مسجد کے اندر جھکنے کا مظاہرہ کرے اور مسجد کے باہر کے معاملات میں وہ اکڑ والا بن جائے تو کہا جائے گا کہ اس کا مسجد کا جھکنا محض رسمی اور تقلیدی تھا ۔ اس کی اصل شخصیت وہی ہے جو مسجد کے باہر نظر آ رہی ہے ۔ ایسی حالت میں خدا کے یہاں وہ سجدہ نہ کرنے والا شمار ہو گا نہ کہ سجدہ کرنے والا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues

Printed page