Al-Risala · January 1983 · page 31

مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۳۱

۱۳ اگست کو ایک دن ایتھنز (یونان) میں قیام رہا۔ یونان کی زمین پر یہ مختصر قیام بڑا عبرت انگیز تھا۔ اس کو دیکھ کر خیال آیا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں دور قدیم کے بڑے بڑے حکماء اور فلاسفر پیدا ہوئے ۔ اسپین کے بعد یہ دوسرا مقام ہے جہاں سے اسلام نے " مغرب" کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ مگر آج انھیں راستوں سے " مغرب " اسلامی دنیا میں داخل ہو رہا ہے۔ بلکہ اس کو اپنے نفوذ کے لئے قدیم روایتی راستوں کی ضرورت نہیں۔ وہ بے شمار نئے راستوں سے اس طرح عالم اسلام میں گھس رہا ہے کہ اس پر قرآن کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں۔ ۔ ۔ ودهم من كل حدب ينسلون ۱۳ اگست کو جب کہ ہم طرابلس سے بہت دور ایک غیر ملک (یونان) میں تھے۔ ہوائی اڈہ کی ایک خاتون آئیں اور ہمارا تعارف حاصل کرنے کے بعد ہم کو خوش آمدید کہا۔ ان کو حکومت لیبیا کی طرف سے ٹیلكس پر ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ہم سے ملیں اور ہماری مدد کریں۔ چنانچہ وہ ہم کو عام ہوائی مسافروں کی صف سے نکال کر ایک خصوصی مہمان خانہ میں لے گئیں۔ یہاں کھانے اور دوسری ضروریات کا اعلیٰ انتظام تھا۔ جب اگلے جہاز کا وقت آیا تو خاتون دوبارہ آئیں اور عام مسافروں سے الگ ایک خصوصی گاڑی پر سوار کر کے ہم کو طرابلس جانے والے جہاز تک پہنچایا۔

یہ منظر دیکھ کر مجھے آخرت کا معاملہ یاد آگیا۔ جنت میں کسی آدمی کا داخلہ اگر چہ حشر میں حساب کتاب کے بعد ہوگا ۔ مگر حدیث میں بتایا گیا ہے کہ آدمی کا اخروی انجام اس کی موت کے بعد ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اس پر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب آدمی کے ابدی انجام کا فیصلہ قیامت کے بعد ہوگا تو قیامت سے پہلے کسی آدمی کے لئے اس کا تجربہ کیسے ممکن ہے۔ مذکورہ واقعہ تمثیلی انداز میں اس کا ایک جواب ہے۔ ہماری میزبانی کا اصل مقام اگرچہ براعظم افریقہ کے ایک ملک (لیبیا) میں تھا۔ مگر چونکہ یہ سرکاری میزبانی تھی اس لئے اس کا آغاز بہت پہلے براعظم یورپ کے ایک ملک (یونان) سے شروع ہو گیا جب کہ ابھی ہم میزبان ملک کی سرحد میں داخل بھی نہیں ہوئے تھے۔

طرابلس میں ایک روز میں اپنے ہوٹل کے کمرہ میں تھا کہ دروازہ باہر سے مقفل ہو گیا۔ یہ کمرے اس طرح بنائے گئے ہیں کہ نہ باہر کی آواز اندر آئے اور نہ اندر کی آواز باہر جائے۔ ایسی حالت میں دروازہ کو دوبارہ کھلوانے کے لئے مجھے کافی شور وغل کرنا ہوتا۔ مگر مجھے سادہ طور پر صرف یہ کرنا پڑا کہ میں نے انٹرکام پر نمبر 17 کو ڈائل کیا۔ اُدھر سے ہلو کی آواز آئی تو میں نے بتایا کہ میں کمرہ نمبر 48 اا میں ہوں اور میرا کمرہ باہر سے مقفل ہو گیا ہے۔ چنانچہ ایک منٹ میں ہوٹل کا آدمی آیا اور اس نے دروازہ کھول دیا۔ ان کے پاس ماسٹر کی ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ ایک ہی کنجی سے پوری منزل کے تمام دروازے کھول سکتے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page