مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۳۰
یہ ادارہ طرابلس میں قائم ہے اور اپنی وسعت کے اعتبار سے ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتا ہے۔ اس ادارہ کا مقصد یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اسلام کے ماضی اور حال سے واقف کرایا جائے، اسلام کی فکری عظمت اور اس کی عملی افادیت ان کے ذہن پر بٹھائی جائے۔ ایسے داعی تیار کئے جائیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام کی دعوت کا کام کریں۔ اس کلیہ میں تعلیم کی مدت چار سال ہے اور اس میں ایم اے اور ڈاکٹریٹ کے درجہ تک کی ڈگریاں دی جاتی ہیں۔ اس کا نصاب کلیہ کے مطبوعہ پمفلٹ کے مطابق حسب ذیل مضامین پر مشتمل ہے :
التفسير و علوم القرآن، الحديث وعلوم السنه، الفقه الاسلامی، تاريخ التشريع الاسلامی، التاريخ الاسلامی، الاستشراق والتبشير، حاضر العالم الاسلامی، علم النفس العام، علم الاجتماع، الادیان ومقارنتہا، الفرق الاسلامية، التيارات الفكرية المعاصره، التصوف و تاريخہ، علم الاخلاق، الحضارة الاسلامية، الفلسفة الاسلامية، علم النفس الاجتماعي، اللغات الاوروبيه، اللغات الشرقية ہندوستان اور طرابلس کے درمیان چھ ہزار کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ ہندوستان میں "طرابلس" کا لفظ غالباً سب سے پہلے ۱۹۱۱ میں عام ہوا جب کہ اٹلی کی ۳۵ سالہ حکومت نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے لیبی عوام پر مظالم کئے ۔ اس وقت ہندوستان کے اخبارات نے مضامین لکھے اور شاعروں نے نظمیں کہیں ۔ اسی زمانہ میں اقبال نے اپنی مشہور نظم کہی تھی اس کے دو اشعار یہ تھے :
مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں
جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس میں طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں میں طرابلس ایسے موقع پر پہنچا جب کہ لبنان میں فلسطینی مسلمانوں کے اوپر اسرائیل کے وحشیانہ مظالم (۱۹۸۲) جاری تھے۔ اس کے بعد جس طرح ذلت کے ساتھ فلسطینیوں کو لبنان چھوڑنا پڑا، اس کی چیخ و پکار سے تمام عرب اخبارات بھرے ہوئے نظر آئے۔ اگر مذکورہ تقابل کو دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ملت اسلامیہ نے ۱۹۱۱ سے لے کر ۱۹۸۲ تک آگے کی طرف سفر طے نہیں کیا۔ ملت اسلامیہ ستر سال پہلے جس طرح ظالموں کے مقابلہ میں بے بس تھی۔ اسی طرح وہ ستر سال بعد بھی ظالموں کے مقابلہ میں بے بس ہے ــــــــ جس ملت کے لئے دور اول میں غلبہ مقدر کیا گیا تھا، کیا بعد کے دور میں اس کے لئے مظلومیت اور مغلوبیت مقدر کر دی گئی ہے ۔
دہلی سے لیبیا کے لئے ابھی تک براہ راست ہوائی سروس نہیں ہے۔ ہم نے دہلی سے ایتھنز تک ڈچ ہوائی کمپنی (KLM) کے ذریعہ سفر کیا اور ایتھنز سے طرابلس کے لئے اوپمک ایرویز کے ذریعہ ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues