اسلام کا عطیہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۲۴
تذکیر القرآن هود ۱۱ ایک ایسا دور گزرا ہے جب کہ اس کی سطح پانی سے ڈھکی ہوئی تھی ۔ خدا کی سلطنت کے اس حصہ میں اس وقت صرف پانی نظر آتا تھا ۔ اس کے بعد خدا کے حکم سے خشکی کے علاقے ابھر آئے اور پانی سمندروں کی گہرائی میں جمع ہو گیا ۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ زمین پر موجودہ انواع حیات ظہور میں آئیں ۔ خدا اگر چہ قادر ہے کہ واقعات کو اچانک ظاہر کر دے ۔ مگر یہ دنیا انسان کے لئے بطور امتحان گاہ بنائی گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو منصوبہ کے تحت بنایا اور اپنی تخلیقات پر اسباب کا پردہ قائم رکھا ۔
دنیا کی پیدائش اور اس پر انسان کی آباد کاری سے خدا کا مقصود اچھا عمل کرنے والے کا انتخاب ہے ۔ " اچھا عمل “ دراصل حقیقت پسندانہ عمل کا دوسرا نام ہے ۔ یعنی کسی دباؤ کے بغیر وہ کرنا جو از روئے حقیقت آدمی کو کرنا چاہیے ۔ حقیقت پسند شخص وہ ہے جو اسباب کے ظاہری پردہ سے گزر کر خدا کی چھپی ہوئی کار فرمائی کو دیکھ لے ۔ بظاہر اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے اختیار کرلے ۔ سرکشی کی زندگی گزارنے کا موقع رکھتے ہوئے خدا کا تابعدار بن جائے ۔
موجودہ دنیا میں ایسے ہی حقیقت پسند انسانوں کا چناؤ ہو رہا ہے ۔ جب چناؤ کی یہ مدت ختم ہوگی تو موجودہ نظام کو ختم کرکے دوسرا معیاری نظام بنایا جائے گا جہاں تمام اچھی چیزیں صرف اچھا عمل کرنے والوں کے لئے ہوں گی اور تمام بری چیزیں صرف برا عمل کرنے والوں کے لئے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے قانون مہلت کی وجہ سے منکروں اور سرکشوں کو فوراً نہیں پکڑتا۔ ان کو انتہائی حد تک موقع دیتا ہے کہ وہ یا تو متنبہ ہو کر اپنی اصلاح کر لیں یا آخری طور پر اپنے آپ کو مجرم ثابت کر دیں ۔ یہ قانون مہلت بعض سرکشوں کے لئے غلط فہمی کا سبب بن جاتا ہے ۔ وہ اپنی حیثیت کو بھول کر بڑی بڑی باتیں کرنے لگتے ہیں ۔ مگر جب وہ خدا کی پکڑ میں آجائیں گے اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ وہ خدا کے مقابلہ میں کس قدر بے بس تھے ۔
وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لیئوس كَفُورٌ ﴿٩﴾ وَلَئِنْ أَذَقْنَهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيَّاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ ﴿١٠﴾ إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ ﴿١١﴾ اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت سے نوازتے ہیں پھر اس سے اس کو محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس اور ناشکرا بن جاتا ہے ۔ اور اگر کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی تھی ، اس کو ہم نعمت سے نوازتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ ساری مصیبتیں مجھ سے دور ہو گئیں ، وہ اترانے والا اور اکڑنے والا بن جاتا ہے ۔ مگر جو لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues