Al-Risala · July 1983 · page 23

اسلام کا عطیہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۲۳

قریش کے بعض سرداروں نے ایسا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو وہ بے پروائی کے ساتھ اٹھے۔ اپنی چادر اپنے اوپر ڈالی اور روانہ ہو گئے۔ یہ دراصل کسی بات کو نظر انداز کرنے کی ایک صورت ہے۔ کوئی آدمی جب داعی کو حقیر سمجھے اور اس کے مقابلہ میں اپنے کو بر تر خیال کرے تو اس وقت وہ اسی قسم کا رویہ اختیار کرتا ہے۔ مگر آدمی بھول جاتا ہے کہ جس نفسیات کے تحت وہ ایسا کر رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ یہ صرف ایک انسان (داعی) کو نظر انداز کرنا نہیں ہے بلکہ خود خدا کو نظر انداز کرنا ہے جو ہر کھلے اور چھپے کو جاننے والا ہے۔

پھر آدمی کا حال اس وقت کیا ہوگا جب وہ خدا کا سامنا کرے گا۔ وہ دیکھے گا کہ جس خدا کو اس نے نظر انداز کیا تھا وہی وہ ہستی تھا جس سے اس کو وہ سب کچھ ملا تھا جو اس کے پاس تھا۔ حتیٰ کہ وہ اسباب بھی جن کے بل پر اس نے خدا کی بات کو نظر انداز کر دیا تھا۔ آدمی خدا کی دنیا میں ہے اور بالآخر وہ خدا کی طرف جانے والا ہے۔ مگر وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ آج خدا سے اس کا کوئی تعلق ہے اور نہ آئندہ اس کا خدا سے کوئی واسطہ پڑنے والا ہے۔

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرُ مُبِينٌ وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَى أُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ اور اس کا عرش پانی پر تھا، تاکہ تم کو آزمائے کہ کون تم میں اچھا کام کرتا ہے۔ اور اگر تم کہو کہ مرنے کے بعد تم لوگ اٹھائے جاؤ گے تو منکرین کہتے ہیں یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ اور اگر ہم کچھ مدت تک ان کی سزا کو روک دیں تو کہتے ہیں کہ کیا چیز اس کو روکے ہوئے ہے۔ آگاہ ، جس دن وہ ان پر آپڑے گا تو وہ ان سے پھیرا نہ جاسکے گا اور ان کو گھیر لے گی وہ چیز جس کا وہ مذاق اڑا رہے تھے ۔ ۷-۸۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues

Printed page