اسلام کا عطیہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۲۶
تذکیر القرآن
اَنَّمَا اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَاَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَهَلْ اَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس چیز کا کچھ حصہ چھوڑ دو جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے۔ اور تم اس بات پر دل تنگ ہو کہ وہ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ تم تو صرف ڈرانے والے ہو اور اللہ ہر چیز کا ذمہ دار ہے۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کتاب کو گھڑ لیا ہے ۔ کہو، تم بھی ایسی ہی دس سورتیں بنا کر لے آؤ اور اللہ کے سوا جس کو بلا سکو بلا لو، اگر تم سچے ہو۔ پس اگر وہ تمہارا کہا پورا نہ کر سکیں تو جان لو کہ یہ اللہ کے علم سے اترا ہے او ر یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پھر کیا تم حکم مانتے ہو ۱۲-۱۴ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شرک کی تردید کی اور لوگوں کو توحید کی طرف بلایا تو آپ کے مخاطبین بگڑ گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی باتوں سے ان کے ان بڑوں پر زد پڑتی تھی جن کے دین کو انہوں نے اختیار کر رکھا تھا اور جن سے انتساب پر وہ فخر کرتے تھے۔ صورت حال یہ تھی کہ قدیم عربوں کے یہ اکابر تاریخی طور پر ان کی نظر میں با عظمت بنے ہوئے تھے۔ جب کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ ابھی تاریخ کی عظمتیں شامل نہیں ہوئی تھیں ۔ اس وقت آپ لوگوں کو ایک بے حیثیت انسان کے روپ میں نظر آتے تھے۔ عرب کے لوگ یہ دیکھ کر سخت برہم ہوتے تھے کہ ایک معمولی آدمی ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس سے ان کے اکابر و اعاظم بے اعتبار ثابت ہو رہے ہیں۔ ایسی حالت میں داعی کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ وہ کم از کم وقتی طور پر تنقیدی انداز سے پر ہیز کرے اور صرف مثبت طور پر اپنا پیغام پیش کرے ۔ " شاید تم وحی کے بعض حصہ کی تبلیغ چھوڑ دو گے " سے مراد وحی خدا وندی کا یہی تنقیدی حصہ ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو وضاحت مطلوب ہے اور تنقید کے بغیر وضاحت ممکن نہیں۔ پھر اگر حق کو پوری طرح کھولنے کے نتیجہ میں لوگ داعی کو استہزاء اور مخالفت کا موضوع بنائیں تو اس سے گھبرانے کی کیا ضرورت - مدعو کی طرف سے یہ مخالفانہ رد عمل تو دراصل وہ قیمت ہے جو کسی آدمی کو بے آمیز حق کا داعی بننے کے لئے اس دنیا میں ادا کرنی پڑتی ہے۔
خدا کے داعی کے برحق ہونے کا سب سے زیادہ یقینی ثبوت اس کا ناقابل تقلید کلام ہے۔ جو لوگ پیغمبر کو حقیر سمجھ رہے تھے اور یہ یقین کرنے کے لئے تیار نہ تھے کہ اس بظاہر معمولی آدمی کو وہ سچائی ملی ہے جو ان کے اکابر کو بھی نہیں ملی تھی، ان سے کہا گیا کہ پیغمبر کی صداقت کو اس معیار پر نہ جانچو کہ مادی اعتبار سے وہ کیسا ہے۔ بلکہ اس حیثیت سے دیکھو کہ وہ جس کلام کے ذریعہ اپنی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues