اسلام کا عطیہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۲۷
تذکیر القرآن
دعوۃ پیش کر رہا ہے وہ کلام اتنا عظیم ہے کہ تم اور تمہارے تمام اکابر مل کر بھی ویسا کلام نہیں بنا سکتے۔ یہ ناقابلِ تقلید امتیاز اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ پیغمبر کے برحق ہونے کی اس واضح نشانی کے بعد آخر لوگوں کو خدا کا حکم بردار بننے میں کس چیز کا انتظار ہے ۔
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمُ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَطِلُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (١٦)
جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتے ہیں ، ہم ان کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دیدیتے ہیں ۔ اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ انہوں نے دنیا میں جو کچھ بنایا تھا وہ برباد ہوا اور خراب گیا جو انہوں نے کمایا تھا ١٤ - ١٥ دین کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ملاوٹی دین، دوسرا بے آمیز دین ۔ ملاوٹی دین در اصل دنیا کے اوپر دین کا لیبل لگانے کا دوسرا نام ہے ۔ وہ دنیا اور دین کے درمیان مصالحت کرنے سے وجود میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں ایسا ہوتا ہے کہ ملاوٹی دین کی بنیاد پر بڑے بڑے ادارے قائم ہوتے ہیں ۔ اس کے نام پر مال اور عزت اور قیادت حاصل ہوتی ہے ۔ بے آمیز دین کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بے آمیز دین کی دعوت جب کسی ماحول میں اٹھتی ہے تو وہ صرف ایک نظری سچائی ہوتی ہے ۔ معاشی مفادات اور قیادت کی مصالح اس کے ساتھ جمع نہیں ہوتے ۔ ایسی حالت میں جو لوگ ملاوٹی دین کے نام پر عزت اور مقام حاصل کئے ہوئے ہوں ان کے سامنے جب بے آمیز دین کی دعوت آتی ہے تو وہ سخت متوحش ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اس کو اختیار کرنے کی صورت میں انہیں نظر آتا ہے کہ تمام دنیوی چیزیں ان سے چھن جائیں گی ۔
اس اعتبار سے کسی ماحول میں بے آمیز دین کی دعوت کا اٹھنا وہاں ایک نازک امتحان کا برپا ہونا ہے ۔ ایسے وقت میں جو لوگ دنیا کی عزت اور دنیا کے مفادات کو قابلِ ترجیح سمجھیں اور بے آمیز دین کا ساتھ نہ دیں ان کی ساری دوڑ دھوپ دنیا کے خانہ میں چلی جاتی ہے ۔ کیونکہ انہوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues