حج کا سفر
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۳۰
حج کا سفر
اگست ۱۹۸۲ میں میں بعض ملکوں کے سفر پر نکلا۔ اس سفر میں ’’حج‘‘ کا پروگرام شامل نہ تھا۔ حتیٰ کہ میرے ذہن میں اس کا تصور بھی نہ تھا۔ روانڈا (افریقہ) پہنچا تو وہاں سے اچانک سفر حج کے اسباب پیدا ہو گئے۔ اس معاملہ میں میرے ساتھ بالکل وہ صورت پیش آئی جو کسی شاعر نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے:
خدا کے دین کا موسیٰ سے پوچھے احوال کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے حج کا یہ سفر اسلامک سنٹر (کیگالی) کے ڈائریکٹر جناب محمد سلیمان القائد کے ساتھ ہوا۔ وہ چونکہ اس سے پہلے دو بار حج کر چکے تھے اس لئے پورے سفر میں ان کی رہنمائی بہت مفید ثابت ہوئی۔ کیگالی سے ہم ایتھوپین ایئرلائنز کے ذریعہ ۱۵ ستمبر ۱۹۸۲ کی صبح کوروانہ ہوئے۔ ہماری پہلی منزل اینٹی (Entebbe) تھی۔ یہاں جہاز ایک گھنٹہ ٹھہرا اور ہم کو موقع ملاکہ ہم یوگنڈاکے اس شہر پر ایک طائرانہ نظر ڈال سکیں۔ اینٹی ایک چھوٹا ہوائی اڈہ ہے۔ مگر چاروں طرف پھیلی ہوئی شادابی نیز سمندر کے ساحل نے اس کو کافی خوبصورت بنا دیا ہے۔ اسی مقام پر ۱۹۷۸ میں ہائی جیکنگ کا مشہور واقعہ پیش آیا تھا جب کہ فلسطینیوں نے ایک اسرائیلی جہاز کو بحر اینٹی کے ہوائی اڈہ پر اتار لیا تھا۔ چند روز تک غیر یقینی صورت حال رہی۔ اس کے بعد اچانک اسرائیلی ہوائی جہاز اینٹی کے ہوائی اڈہ پر اترے۔ انہوں نے حیرت انگیز مہارت کے ساتھ فلسطینیوں کو مغلوب کیا اور پھر اپنے تمام آدمیوں کو لے کر اسرائیل پہنچ گئے۔
ہماری دوسری منزل عدیس ابابا تھی۔ یہاں سے ہمیں ہوائی جہاز بدلنا تھا۔ اس سلسلے میں یہاں ایک روز قیام رہا۔ عدیس ابابا، ایتھوپیا کا دارالسلطنت ہے۔ ایتھوپیا (حبشہ) وہ ملک ہے جہاں صحابہ کرام نے پہلی ہجرت کی تھی ۔ اسی خاک سے بلال حبشی پیدا ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہاں کا حکمران نجاشی تھا۔ وہ نہایت عادل حکمراں تھا اور اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ تاہم یہاں کی اکثر آبادی بدستور اپنے عیسائی مذہب پر قائم رہی۔ ایتھوپیا کے ایک سرحدی علاقہ اریٹیریا) میں مسلمانوں کی آبادی ہے ۔ مگر ان مسلمانوں کو اس کے سوا اور کوئی کام معلوم نہیں کہ یہاں کی عیسائی حکومت سے بے معنی سیاسی لڑائی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues