حج کا سفر
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۳۸
لا يستطيع ان يثبت على الراحلة افاج حج عنه. قال نعم۔ وذلك في حجة الوداع (رواه الجماعة) میرا ایک بوڑھا باپ ہے، وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتا ۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کروں ۔ آپ نے فرمایا ہاں ۔ یہ حجة الوداع کا واقعہ ہے ۔ حج بدل کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی مرگیا ہو اور یہ وصیت کی ہو کہ میری طرف سے حج ادا کر دینا۔ یہ صورت استنباطی طور پر نکلتی ہے امام مالک کے نزدیک مُردہ کی طرف سے حج بدل اسی وقت ہے جب کہ موت سے پہلے اس نے وصیت کی ہو۔ قال مالك : انما يحج عنه اذا اوصي، اما اذا لم یوص فلایحج عنه. لان الحج عبادة غلب فيه جانب البدنية فلا يقبل النيابة، فقه السنة، المجلد الاول صفحه ،۲۳) حج ہر صاحب استطاعت پر عمر میں ایک بار فرض ہے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے (الحج المبرور ليس له جزاء الا الجنة ، (بخاری ومسلم) حضرت عمر بن العاص کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : لما جعل الله الاسلام فى قلبی اتیت رسول الله صلی الله علیہ وسلم فقلت ابسط يدك فلابایعک - قال فبسط فقبضت یدى فقال مالك یا عمرو - قلت اشترط - قال تشترط ماذا - قلت ان یغفرلی - قال اما علمت ان الاسلام یہدم ما قبله وان الهجرة تہمدم ما قبلها وان الحج يهدم ما قبله (رواه مسلم)
جب اللہ نے اسلام میرے دل میں ڈالا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اپنا ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں بیعت کروں۔ وہ کہتے ہیں کہ پھر آپ نے ہاتھ پھیلایا۔ مگر میں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ آپ نے کہا اے عمرو ایسا کیوں ۔ میں نے کہا کہ میری ایک شرط ہے۔ آپ نے فرمایا، تمہاری کیا شرط ہے۔ میں نے کہا یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔ آپ نے فرمایا، کیا تم کو نہیں معلوم کہ اسلام پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ اور ہجرت پچھلے گناہوں کو ختم کردیتی ہے اور حج پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔
حج مبرور کو اکثر لوگ حج مقبول کے ہم معنی سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا حج جس کے ساتھ گناہ شامل نہ ہو ( الحج الذی لا یمخالطہ اثم)
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues