Al-Risala · July 1983 · page 43

حج کا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۴۳

کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے۔ اور جن کی شفاعت کو قبول کرکے آپ انہیں جہنم سے بچا لیں گے اور جنت میں داخل کریں گے۔ کیسا عجیب ہے وہ دن جو آچکا ہے اور کیسا عجیب ہے وہ دن جو آنے والا ہے۔

۵ اکتوبر ۱۹۸۲ کو ہم مدینہ پہنچے۔ راستہ میں بدر اور دوسرے مقامات ملے۔ مگر آج کا ” بدر “ بس نام کا بدر ہے۔ اس کو دیکھ کر حافظہ کے خانہ میں ضرور یہ تصور جاگتا ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام اور غیر اسلام کی پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی گئی تھی۔ مگر موجودہ بدر کا ظاہری ماحول اس کی تصویر پیش کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ تاہم بعض شہداء بدر کی قبریں اب بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔

مدینہ میں ہمارا قیام مسجد نبوی کے بالکل قریب ایک ہوٹل میں تھا۔ اذان اور تکبیر تک کی آواز ہمارے کمرہ میں پہنچتی تھی۔ کئی دن تک مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی توفیق نصیب ہوئی ۔ مگر نمازیوں کا ہجوم اس قدر ہوتا ہے کہ بمشکل کسی کو سکون اور توجہ کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ مکہ کے قیام کے ابتدائی دنوں میں میرے ساتھ یہی صورت پیش آئی تھی۔ اس کے بعد میں مسجد حرام کی اوپر کی منزل پر نماز پڑھنے لگا۔ وہاں مجھے کافی سکون رہتا تھا۔ مسجد نبوی کو معلوم نہیں کس مصلحت کی بنا پر دو منزلہ نہیں بنایا گیا کہ میرے جیسا کوئی آدمی وہاں پناہ لے سکے۔

مسجد نبوی غیر معمولی طور پر وسیع اور شاندار ہے۔ مگر زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے، تمام وسعتوں کے باوجود اس کو ناکافی بنا دیا ہے۔ تاہم میرے جیسے آدمی کے لئے یہ منظر کوئی خوشگوار منظر نہ تھا کہ مسجد نبوی کے اطراف کو دکانوں اور ہوٹلوں نے گھیر رکھا ہے۔ صرف ایک طرف کا حصہ دکانوں اور ہوٹلوں سے خالی ہے جس کے اوپر خیمہ نما تعمیرات نمازیوں کے لئے کھڑی ہوئی ہیں۔ کاش مسجد کے چاروں طرف کھلا ہوا میدان ہوتا تو مسجد کی عظمت زیادہ نمایاں ہوتی۔

آج کے مدینہ میں قدیم زمانہ کے مدینہ کا کوئی منظر دکھائی نہیں دیتا۔ آج کا مدینہ بس جدید طرز کی عمارتوں کا ایک شہر ہے۔ تاہم وہ جدید طرز کی شہری منصوبہ بندی کی خصوصیات سے خالی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نو تعمیر عمارتوں کا ایک جنگل ہے جو عدم تخطیط کی زمین پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ غالباً اسی عدم تخطیط یا سوء تخطیط کا یہ نتیجہ ہے کہ مسجد نبوی

‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues

Printed page