حج کا سفر
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۴۴
کے چاروں طرف اس کے شایان شان زمین خالی چھوڑی نہ جاسکی۔
یہی حال مکہ کا ہے اور یہی حال مدینہ کا ، مکہ اور مدینہ دونوں اسلامی تاریخ کے اہم ترین مقامات ہیں۔ سو سال پہلے یہاں کثرت سے تاریخی آثار موجود تھے۔ مگر اصلاحی مجاہدین نے ان تمام آثار کو بدعت کے مقامات قرار دے کر مٹا دیا۔ ہمارے مصلحین کو واقعہ کا صرف ایک پہلو معلوم تھا۔ یہ کہ یہاں بعض جاہل قسم کے لوگ بدعتی افعال کرتے ہیں۔ انہیں اس کی خبر نہ ہوسکی کہ یہ اسلامی تاریخ کے زندہ نشانات ہیں۔ اور ان کو مٹا کر وہ اسلامی تاریخ کو اس کے ایک قیمتی جزرسے محروم کر رہے ہیں جس کی تلافی کبھی ممکن نہ ہوگی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں علمی ذوق کی کمی نے اسلام کو کیسے کیسے نقصانات پہنچائے ہیں۔
۴ ستمبر ۱۹۸۲ کو حج کے مناسک کی تکمیل ہوئی ۔ اور ہم دوبارہ مکہ واپس آئے۔ مطابع دار الثقافہ (مکہ) کی طرف سے ہر سال حاجیوں کے اعداد و شمار شائع کئے جاتے ہیں ۔ اس کے اعلان کے مطابق اس سال (۱۴۰۲ھ) سعودی عرب کو چھوڑ کر دوسرے تمام ممالک سے آنے والے حاجیوں کی کل تعداد ۸۵۳۵۵۵ تھی۔ زیادہ تعداد والے چند ملکوں کے نام یہ ہیں:
۹۸۲۰۸ مصر ۰۱ ۸۹۵۰۳ ایران ۰۲ ۸۱۱۲۸ نائیجیریا ۰۳ ۷۲۸۴۴ پاکستان ۰۴ ۵۷۲۷۸ انڈونیشیا ۰۵ ۵۳۶۸۸ ترکی ۰۶ ۴۰۲۰۰ الجزائر ۰۷ ۲۷۸۹۰ شام ۰۸ ۲۶۲۲۹ ہندوستان ۰۹ سعودی حکومت کے بے شمار انتظامات نے موجودہ زمانہ میں حج کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ تاہم ایک چیز ایسی ہے جس کا اس کے پاس شاید کوئی حل نہیں۔ اور
‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues