Al-Risala · July 1983 · page 45

حج کا سفر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۳، صفحہ ۴۵

وہ حاجیوں کا ہجوم ہے۔ خاص طور پر شیطان کو پتھر مارنے کے موقع پر لوگ جس طرح بیک دوسرے کے اوپر ٹوٹتے ہیں وہ انتہائی حد تک افسوس ناک ہے۔ بے شمار انسان ایک وقت شیطان کو مارنے کے لئے اس طرح ہجوم کرتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علامتی شیطان کو کنکری مارنے کا انہیں اتنا جوش ہے کہ اس کی خاطر وہ حقیقی انسان کو کچل دینا چاہتے ہیں۔ خدا کے ایک حکم کی تعمیل کے شوق میں خدا کے دوسرے حکم کو نظر انداز کرنے کی اس سے زیادہ بری مثال اب تک میں نے اپنی نگاہوں سے نہیں دیکھی تھی۔ کئی آدمی ایسے نظر پڑے جن کے ہاتھ یا پاؤں میں پلاسٹر بندھا ہوا تھا۔ ایک منظر یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ رمی کے وقت ایک حاجی گر پڑا اور حاجیوں کے قدموں کے نیچے کچل کر ختم ہو گیا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس طرح کے واقعات ہر سال ہوتے رہتے ہیں۔ کیسا عجیب ہے وہ حج جس میں انسانی دشمن کی ایک علامت کو مارنے کے جوش میں خود انسان کو مار ڈالا جائے۔ حج ایک قسم کا تجدید ایمان ہے ۔ حج سے پہلے کا ایمان گویا ایک موقت ایمان ہے۔ اس کے بعد مومن جب مکہ پہنچتا ہے اور لبیک لبیک کہہ کر بیت اللہ کا طواف کرتا ہے تو گویا وہ اپنے ایمان کی تجدید کرتا ہے ۔ وہ براہ راست خدا سے "بیعت" ہوتا ہے۔ حج کے بعد گناہوں کی معافی عین اس قانون کے تحت ہے جو قبولیت اسلام سے متعلق ہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آدمی کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کے ساتھ یہ معاملہ ایمان اول کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ اور ایمان ثانی کے بعد گویا اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ ایمان اول اگر بالواسطہ ایمان تھا تو ایمان ثانی براہ راست ایمان ہے۔ معذوری کی حالت میں ایمان اول ہی خدا کی رحمت سے آدمی کے گناہوں کی معافی کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ مگر صاحب استطاعت کے لئے ایمان ثانی کے بعد اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ شاید اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی حج ادا کئے بغیر مر جائے تو خدا کو اس کی پروا نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرا یا نصرانی ہو کر مرا (من ملك زاداً وراحلة تبلغه حج بيت الله الحرام ولم يحج فلا عليه ان يموت يهوديا او نصرانيا، رواه الترمذي والبيهقي)

حقیقت یہ ہے کہ حج تمام عبادتوں کا سردار ہے۔ کعبہ کا جو درجہ دوسری مسجدوں کے درمیان ہے وہی درجہ حج کا دوسری عبادتوں کے درمیان۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1983 All issues

Printed page