حقیقی ادب ، خیالی ادب
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۵
حقیقی ادب ، خیالی ادب
اندر ملہوترا ٹائمز آف انڈیا کے مغربی نمائندہ ہیں ۔ انہوں نے مسٹر ہرمن کی کتاب ( جنگ کی ہوائیں ) کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پچھلے پورے سال یہ کتاب اٹلانٹک کے دونوں کناروں پر سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں تقریباً سر فہرست رہی :
All through the last year, Mr. Herman's work The Winds of War remained close to the top of the weekly list of best-sellers on both sides of the Atlantic. " اٹلانٹک کے دونوں کنارے " سے مراد یورپ اور امریکہ ہیں ۔ یہ ایک خوبصورت ادبی اسلوب ہے۔ مگر یہ ادبی اسلوب واقعہ کی بنیاد پر بنا ہے ۔ اس کے بالمقابل خیالی ادب ہے جس کے لئے واقعہ سے مطابقت ضروری نہیں ۔ مثلاً شبنم ایک مادی واقعہ ہے ۔ اس کا ایک معلوم طبعی مفہوم ہے۔ مگر شاعر جب اپنے خیالات کی دنیا میں ایک تصویر بناتا ہے تو اس کو اس سے بحث نہیں ہوتی کہ شبنم فی الواقع کس چیز کا نام ہے ۔ وہ اگر اپنے فرضی محبوب سے اپنی ملاقات کا ذکر کر رہا ہو تو وہ کہے گا :
صبا نے وہ تنگ درو کی ہے اعلان مسرت میں کہ ٹپکا ہے پسینہ جا بجا شبنم کی صورت میں اس کے برعکس اگر شاعر کے فرضی محبوب کا انتقال ہو جائے تو یہی شبنم " گریہ شبنم " میں ڈھل جائے گی ۔ اس وقت شاعر کو دکھائی دیگا گویا شبنم کے قطرے آسمان کے آنسو ہیں جو شدت غم کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے نکل پڑے ہیں ۔
امریکی خلا باز مسٹر نیل آرم اسٹرانگ نے ۱۹۶۹ میں جب پہلی بار چاند پر قدم رکھا تو ان کی زبان سے نکلا ــــ یہ ایک آدمی کے لئے ایک چھوٹا قدم ہے مگر انسانیت کے لئے وہ ایک عظیم چھلانگ ہے ؛ That's one small step for a man, one giant leap for mankind یہ جملہ ایک عظیم سفر کے بعد نکلا ۔ حقیقت یہ ہے کہ عظیم حالات ہی عظیم ادب کی تخلیق کرتے ہیں ۔ جس آدمی نے بے شمار مراحل سے گزر کر ایسا قدم اٹھایا ہو جو فی الواقع انسانیت کے لئے ایک چھلانگ بننے والا ہو وہی وہ شخص ہوتا ہے جس کے احساسات ان الفاظ میں ڈھل جائیں جس کا ایک نمونہ مسٹر آرم اسٹرانگ کے جملہ میں نظر آتا ہے ۔ فرضی تخیل سے فرضی ادب پیدا ہوتا ہے اور حقیقی عمل سے حقیقی ادب ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues