پانے کے باوجود محروم
الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۴
چارلی چپلن کے ایک سوانح نگار (Denis Gifford) نے اس کے انجام کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں:
وہ جب کام کرتا تھا تو وہ محض فلم سے کچھ زیادہ کی تخلیق کرتا تھا۔ ہنسی اور محبت کے ساتھ جینا، خواب اور امیدیں ۔ مگر ہمیشہ خوشیوں پر خاتمہ کہاں تھا، اگر بالآخر وہ کل کی سڑک پر قدم رکھنے سے زیادہ کچھ نہ ہو (آر ۔ ڈی جون ۱۹۷۸)
چارلی چپلن کی موت کے بعد ایک مبصر نے اس کی بابت حسب ذیل الفاظ لکھے تھے : Chaplin's life has been filled to the brim with what most lives consist of yearning after...... wealth and fame and creative play and beautiful women...... but he does not know how to enjoy any of the four. Max Eastman in Ladies Home Journal چارلی چپلن کی زندگی ان چیزوں سے آخری کنارے تک بھری ہوئی تھی جس کی دوسرے اکثر لوگ صرف تمنا کرتے ہیں دولت، شہرت، تخلیقی اداکاری اور خوبصورت عورتیں ۔ مگر اس کو نہیں معلوم تھا کہ ان چاروں میں کسی ایک سے بھی وہ کس طرح لطف اندوز ہو۔ چارلی چپلن کی یہ کہانی تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ چارلی چپلن کی طرح پا کر محروم رہتے ہیں ۔ اور دوسرے لوگ پائے بغیر محروم۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں پانے والا بھی اتنا ہی محروم ہے جتنا نہ پانے والا ۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس سب سے بڑی حقیقت کو جانتے ہوں۔
امریکہ کی ایک نوجوان عورت نے خود کشی کر لی ۔ اس کی جیب میں ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پرچہ تھا۔ اس میں درج تھا : مجھے خوشی کی تلاش تھی ۔ اس کے لئے میں نے نشہ کا استعمال کیا۔ میں جنسی آوارگی کی حد تک گئی ۔ مگر مجھے کہیں خوشی نہیں ملی ۔ اب میں مایوس ہو کر اپنے آپ کو ۔ ختم کر رہی ہوں ۔
اکثر آزاد خیال مردوں اور عورتوں کا یہی حال ہے ۔ وہ خوشی کی تلاش میں سب کچھ کر ڈالتے ہیں ۔ مگر آخر میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان کی تلاش کا جواب موجود نہیں۔ اس کے بعد کچھ مایوسانہ زندگی گزار کر طبعی موت مرتے ہیں اور کچھ لوگ جھنجھلاہٹ میں آکر خود کشی کر لیتے ہیں۔ کتنے بے خبر ہیں وہ لوگ جو اپنے کو جاننے والا سمجھتے ہیں ۔ کیسے ناکام ہیں وہ لوگ جن کا نام کامیاب انسانوں کی فہرست میں سب سے آگے لکھا ہوا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues