Al-Risala · August 1983 · page 16

Gurinder Singh Mandla: Broke school rules

الرسالہ، اگست ۱۹۸۳، صفحہ ۱۶

ہندوستان میں زندہ رہنے کے لئے آدمی کو دو چیزوں کی ضرورت ہے ـــــ قوتِ خریداری اور خریدی جانے والی چیز کے بارے میں جانکاری ۔ چونکہ زندگی کی ضروریات بے شمار ہیں ۔ آدمی کو کمانے اور قوتِ خرید حاصل کرنے میں اتنا مصروف ہونا پڑتا ہے کہ وہ ہر چیز کے بارے میں جانکاری حاصل نہیں کر سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں خریدار کو بار بار دھوکا کھانا پڑتا ہے ۔ وہ اپنی محنت سے کمائے ہوئے پیسہ کو بازار میں اس طرح دے دیتا ہے کہ اس کے بدلے میں اس کو ایسی چیز ملتی ہے جو چند دن کے استعمال کے بعد صرف اس کے مکان کے کباڑ میں اضافہ کرے ۔

لندن میں اور مغرب کے دوسرے شہروں میں یہ مسئلہ نہیں ہے ۔ یہاں آپ کو صرف ایک کام کرنا ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ محنت کرکے کمائیں ۔ اگر آپ کے پاس رقم ہے تو آپ بازار سے اس اطمینان کے ساتھ خریداری کر سکتے ہیں کہ آپ جو چیز حاصل کرنا چاہتے تھے وہی چیز آپ نے پائی ہے نہ کہ کوئی دوسری چیز۔ حتیٰ کہ اگر آپ کے پاس بازار جاکر خریداری کرنے کا وقت نہیں ہے تو آپ اپنی ضرورت کی ہر چیز ٹیلی فون پر منگا سکتے ہیں ۔ اور اس طرح منگائی ہوئی چیز بھی دوبارہ عین آپ کی مرضی کے مطابق ہوگی ۔

مغربی قوموں میں یہ چیز غالباً سائنسی روایات سے آئی ہے ۔ سائنس حقیقت پسندی کا ذہن پیدا کرتی ہے اور یہ تمام خصوصیات بلا شبہ حقیقت پسندی کے مختلف نتائج ہیں۔ ۲۵ مارچ کو لندن میں میری قیام گاہ پر ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ معلوم ہوا کہ ڈاکٹر رشید صدیقی مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ موصوف یو کے اسلامک مشن (لندن) کے صدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے یہاں میرا پر وگرام رکھنا چاہتے ہیں میں نے رضا مندی دیدی ۔ لندن سے میری روانگی ۲۹ مارچ کو تھی، اس لئے یہ طے ہوا کہ ۲۸ مارچ ۱۹۸۳ کی شام کو پروگرام رکھا جائے ۔ یو کے اسلامک مشن کا صدر دفتر لینڈس ڈاؤن روڈ (لندن) میں قائم ہے۔ اس کے علاوہ انگلستان میں اس کی ۳۵ شاخیں ہیں ۔ مرکزی دفتر میں کچھ تعلیم یافتہ افراد جمع ہوئے۔ جن سے سوال وجواب کی صورت میں بات چیت ہوئی ۔ مختلف دینی موضوعات زیرِ بحث آئے ۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ جہالت ہے۔ اگر وہ تعلیم یافتہ ہوجائیں تو ان کے اکثر مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے ۔ یہ سن کر ایک نوجوان نے کہا :

مغرب میں تو تعلیم بہت عام ہے۔ مگر یہاں کے مسائل ابھی تک حل نہیں ہوئے۔ چنانچہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1983 All issues

Printed page