Al-Risala · January 1983 · page 36

Ladies and Gentlemen

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۳، صفحہ ۳۶

کا ترجمہ کیا ہے۔ فی الحال اس کو انھوں نے اپنے رسالہ کے نمبر کے طور پر شائع کیا ہے اور آئندہ کتابی صورت میں چھاپنے والے ہیں۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے :

Mr Sherif Ahmad, direktor medrese Alauddin P. F. 89, Pristina, Yugoslavia اس طرح ہماری معلومات کے مطابق یہ کتاب اردو کے علاوہ عربی، ترکی، فرانسیسی اور یوگوسلاوی زبانوں میں شائع ہوچکی ہے۔

الاسلام تتحدى عرب دنیا میں اس قدر مقبول ہوئی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر تعلیم یافتہ آدمی اس سے باخبر ہے اور اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ہے۔ اکثر ایسا ہوا کہ کسی سے پوچھا گیا کہ آپ نے الاسلام تتحدی پڑھی ہے، اس کا جواب یہ ہوتا تھا: عدۃ مرات (کئی بار)

ہماری معلومات کے مطابق ، الاسلام تتحدى اب تک پانچ عرب ملکوں کی جامعات میں باقاعدہ طور پر داخل نصاب ہو چکی ہے قاہرہ، طرابلس ، قطر ، خرطوم اور تیونس۔ یہاں آنے والوں کے ذریعہ معلوم ہوا کہ کئی عرب یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اساتذہ مستقل طور پر اس سے استفادہ کرتے ہیں اور اس کے مضامین کواپنے لکچروں میں استعمال کرتے ہیں۔ مگر جہاں تک راقم الحروف کا علم ہے، ہندوستان اور پاکستان کی کسی بھی درس گاہ کے نصاب میں اب تک وہ داخل نہ کی جاسکی۔ ہمارے قائدین اور ہمارے مدارس کے ذمہ دار یہ اعلان تو بار بار کرتے رہتے ہیں کہ " معقولات اور علم کلام پر جدید انداز میں کتاب لکھنے کی ضرورت ہے" مگر جب ایسی کتاب لکھ کر شائع کر دی جائے تو ان کے اندر یہ جذبہ نہیں ابھرتا کہ اُس کو اپنائیں اور عملاً اِس کو استعمال کریں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا ہر آدمی صرف کہنے کا کریڈٹ لینا چاہتا ہے، عمل کا کریڈٹ لینے کا شوق کسی کے اندر نہیں۔

طرابلس میں الاسلام تتحدى سے متعلق ایک عجیب کہانی معلوم ہوئی۔ طرابلس میں محمد سلیمان القائد اور علی مختار الجعیدی ہمارے دعوتی مشن سے بہت متاثر ہیں۔ ۱۹۷۷ء میں وہ ڈاکٹر عبداللہ الهونی (رئیس قسم اللغۃ العربية، كلية التربية ، جامعہ طرابلس) سے ملے اور ان سے کہا کہ اسلامی مرکز کے لئے آپ تعاون دیجئے۔ وہ مذکورہ لیبی نوجوانوں کے قریبی ملاقاتی تھے۔ انھوں نے کہا خدا کی قسم میں تو ایک غریب آدمی ہوں (والله انا مفلس)

عبداللہ الهونی کے پاس واقعۃً مال نہ تھا۔ تاہم وہ ایک شریف آدمی تھے۔ رات کو جب وہ بستر پر لیٹے تو ان کے دل نے انھیں ملامت کی کہ تمھارا دوست تم سے ایک نیک کام میں مدد لینے کے لئے آیا اور

‹ Previous page Next page › Contents of January 1983 All issues

Printed page